http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 28 July, 2008, 14:26 GMT 19:26 PST

شکیل اختر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

’دھماکوں کے پیچھے حکومت کا ہاتھ‘

ہندوستان ميں حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی یعنی بی جے پی نے الزام لگایا ہے کہ گزشتہ ہفتے بنگلور اور احمدآباد کے بم دھماکوں میں حکومت کا ہاتھ ہے۔

پولیس اور خفیہ ادارے سنيجر کو احمدآباد میں ہونے والے بم دھماکوں کے ذمہ دار افراد کا سراغ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ریاست کیرالہ، کرناٹک، مدھیہ پردیش اور کئي دیگر صوبوں میں بم دھماکوں کے خدشے کے پیش نظر ریڈ الرٹ جاری کیا گيا ہے لیکن اس دوران حزب اختلاف کی جماعت بھاریتہ جنتا پارٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ ان دھماکوں کے پیچھے حکومت کی سازش تھی۔

سوراج کا کہنا تھا’حکومت نے اعتماد کے ووٹ کے دوران رشوت دہی کے اسکینڈل سے توجہ ہٹانے اور امریکہ پرستی سے بیزار ہوئے مسلمانوں کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے یہ سازش کی گئی‘۔

ملک ميں دہشت گردی سے نمٹنے کے طریقہ کار پر کانگریس اور بی جے پی کے خیالات میں فرق رہا ہے لیکن دونوں جماعتوں نے دہشت گردی کے معاملے پر کبھی ایک دوسرے پر برہ راست الزام تراشی نہيں کی تھی۔

یہ پہلا موقع ہے جب دونوں دھماکوں کے لیے بی جے پی نے براہ راست حکومت پر الزام عائد کردیا ہے۔ اطلاعات ہيں کہ بی جے پی کی قیادت نے بحث و مباحثے اور کافی سوچ سمجھ کر حکومت پر دھماکوں کی سازش کا الزام لگایا ہے۔

یہ الزام کتنا صحیح یا غلط ہے، یہ تو معلوم نہيں لیکن اتنا ضرور ہے کہ اعتماد کی تحریک کے بعد حکمراں اتحاد اور حزب اختلاف کے درمیان پہلے ہی کافی تلخی پیدا ہوچکی تھی اب اس الزام کے بعد اس تلخی میں اضافہ ہونا لازمی ہے۔

واضح ہے کہ جمعہ اور سنیچر کو بنگلور اور احمدآباد میں ہونے والے سلسلے وار بم دھماکوں ميں کم از کم 50 افراد ہلاک اور سو سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔