Sunday, 27 July, 2008, 01:31 GMT 06:31 PST
ہندوستان کی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد ميں سنیچر کو یکے بعد دیگرے ہونے والے سولہ دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد پینتالیس تک پہنچ گئی ہے جبکہ سو سے زائد افراد زخمی ہیں۔
اتوار کے روز ریاستی نائب وزیر داخلہ امیت شاہ نے بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد پینتالیس ہے۔ اس سے قبل دھماکوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے لیے قائم کیے گئے سرکاری کنٹرول روم اور پولیس حکام نے اڑتیس افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی تھی۔
بھارت کی صدر پرتیبھا پاٹل اور وزیراعظم منموہن سنگھ نے عوام سے پر سکون رہنے کی اپیل کی ہے جبکہ احمد آباد میں بی بی سی کے نمائندے
کے مطابق عوام خوف و ہراس کا شکار ہیں اور گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کر رہے ہیں۔
سنیچر کو ہونے والے دھماکوں کا نشانہ عوامی مقامات، پبلک ٹرانسپورٹ اور وہ ہسپتال بنے جہاں دھماکوں کے زخمیوں کو لایا گیا تھا۔ یاد رہے کہ یہ بھارت میں گزشتہ دو دنوں میں سلسلہ وار دھماکوں کا دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل جمعہ کو بنگلور میں سات سلسلہ وار دھماکے ہوئے تھے تاہم ان دھماکوں میں صرف ایک شخص ہلاک ہوا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ’ملک کے مختلف مقامات پر ایک ہی نوعیت کے دھماکے ہو رہے ہیں، تو کوئی نہ کوئی ماسٹرمائنڈ گروہ یا ملک، اس کو ’آپریٹ‘ تو ضرور کر رہا ہے اور اس کے نتیجے میں ایک ہی قسم کی ’موڈس اپرینڈی‘ (طریقہ کار) استعمال میں لایا جا رہا ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ گجرات سرکار انسانیت کے دشمنوں کو تلاش کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گي اور گجرات کی ترقی مزید تیز کر کے دہشتگردوں کو جواب دیا جائے گا۔
دریں اثناء مرکزی وزیر داخلہ شوراج پاٹل نے دلی میں صحافیوں نے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے پاس معلومات ہیں لیکن وہ ابھی اسے عام نہیں کر رہے ہیں۔انہوں نے دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان دھماکوں کا شکار ہوئے افراد کے لواحقین کے لیے ان کی پوری ہمدردی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ فی الوقت کسی بھی قسم کی الزام تراشی صحیح نہیں ہے۔وزير داخلہ نے بتایا کہ اتوار کو ایک مینٹگ طلب کی گئی ہے جہاں ان دھماکوں کے بارے موصول ہوئی اطلاعات کا تجزیہ کیا جائے گا۔
احمدآباد کے سینیئر صحافی اجے امٹھ نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا یہ دھماکے باپو نگر، منی نگر، ایسان پور ، سارکیھج، نارول ، رائے پور، سارنگ پور اور سنگم سنیما علاقوں میں ہوئے۔ ان کے مطابق ان علاقوں میں بیشتر مزدوروں کی آبادی تھی جہاں کافی مسلمان بھی رہتے ہیں۔اجے امٹھ نے بتایا ہے کہ اب تک کسی بھی تنظیم نے ان دھماکوں کی ذمےداری قبول نہیں کی ہے۔
گجرات کے گاندھی نگر سے رکن پارلیمان اور حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما لال کرشن اڈوانی نے ٹی وی چینلوں سے بات چیت کے دوران کہا ہے کہ بنگلور اور احمدآباد میں ایک کے بعد ایک دھماکوں سے ایسا لگتا ہے کہ یہ کسی سازش کا حصہ ہو سکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ فی الوقت کسی بھی قسم کے امکانات صحیح نہیں ہوں گے لیکن یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے۔انہوں نے ریاستوں سے دہشتگردی کے خلاف قانون (پوٹا) کو جلد سے جلد منظور کرنے کی اپیل کی ہے۔