Friday, 18 July, 2008, 06:01 GMT 11:01 PST
ریاض مسرور
بی بی سی اُردوڈاٹ کام، سرینگر
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں حالیہ احتجاجی تحریک کے بعد گو کہ کشمیر آنے والے سیاحوں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے، لیکن آبی کھیلوں کےعالمی مقابلے متعدد غیرملکی سیاحوں کی توجہ مبذول کر رہے ہیں۔
چیف سیکریٹری ایس ایس کپور نے بدھ کے روز تفریحی مقام سونہ مرگ میں ایک تقریب کے دوران ان مقابلوں کا افتتاح کیا۔
ان مقابلوں میں چیک جمہوریہ اور یوکرین سمیت مختلف ممالک اور ہندوستان کی متعدد ریاستوں کی کُل تیرہ ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔
افتتاحی تقریب کے موقع پر ایس ایس کپور نے وادئ کشمیر کے قدرتی مناظر اور دلکش مقامات کی ستائش کرتے ہوئے کہا: ’اگر مہم جوئی سے متعلق کھیلوں یا ایڈونچر سپورٹس کو فروغ دینے کے لئے مقامی ادارے سامنے آئیں تو ریاست کے مالی مشکلات ختم ہوسکتے ہیں۔‘
محکمہ سیاحت کے ڈپٹی دائریکٹر سرمد حفیظ نے بی بی سی کو بتایا: ’ کشمیر تو ہمالیہ کی گود میں واقع کھیل کا بہت بڑا میدان ہے۔ یہاں دُنیا بھر سے مہم جو ایڈوینچر سپورٹس کا لطف اُٹھا سکتے ہیں۔ہمارے یہاں دنیا کی بہترین جھیلیں، ندیاں، صاف اور تیز بہاؤ والے پانی کے نالے اور دل موہ لینے والی پہاڑی چوٹیاں ہیں۔ ہم مزید ایسی جگہوں کو تلاش کرینگے جہاں غیرملکی سیاح دیدہ دلیری کا مظاہرہ کرسکیں۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوجائے تو ہماری معیشت بہت ترقی کرے گی۔‘
واضح رہے کہ مقامی محمکہ سیاحت نے مہم جوئی اور پہاڑیوں کو سر کرنے سے متعلق ایک سیاحتی منصوبہ ترتیب دیا ہے جس کے تحت غیرملکی اور مقامی مہم جو کھلاڑیوں کو پہاڑی چوٹیوں پر سیر کی اجازت دی جاتی ہے۔
محمکۂ سیاحت کے افسروں کا کہنا ہے کہ اس منصوبہ کے لئے تائب ہوچکے اور سزایافتہ جنگل چوروں کو ٹورِسٹ گائیڈ کے طور عارضی بنیادوں پر منصوبے میں شامل کیا گیا ہے۔ یہی لوگ اونچائیوں پر جانے والے سیاحوں کے ہمراہ ان کی رہنمائی کا کام کرتے ہیں۔
مقابلوں میں شامل جموں کشمیر ٹیم کے کپتان خورشید احمد کا کہنا ہے: ’ ہم لوگ بھی اچھے کھیل کا مظاہرہ کرسکتے ہیں، لیکن ہمارے پاس پرانے ماڈل کی کشتیاں ہوتی ہیں جبکہ غیرملکیوں کے پاس جدید ترین ساز و سامان ہوتا ہے۔ ان کی کشتیاں ہلکی اور ہر خطرے سے نمٹنے کے لئے موزوں ہوتی ہیں۔ ہمارے حکام کو چاہیئے کہ وہ ان چیزوں پر بھی توجہ دیں۔‘