Tuesday, 15 July, 2008, 09:29 GMT 14:29 PST
ہندوستان میں ہند امریکہ جوہری معاہدے پر زبردست سیاسی گہما گہمی کے درمیان وزیر اعظم منموہن سنگھ نے ملک کے مقتدر اخبارات اور ذرائع ابلاغ کے مدیران سے ملاقات میں کہا ہے کہ ان کی حکومت 22 جولائی کو اعتماد کا ووٹ حاصل کر لےگي۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام اس معاہدے کی افادیت کو سمجھتے ہیں اس لیے وہ اس کی حمایت کریں گے۔
منگل کو دلی میں مدیروں سے ملاقات کے دوران وزیر اعظم نے کہا کہ ان کی حکومت کے لیے مہنگائی اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ عالمی بازار میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ افراط زر کی شرح میں بہت جلد کمی آجائے گی۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہند امریکہ جوہری معاہدہ پائے تکمیل تک پہنچےگا۔ انہوں نے ایک بار پھر دہرایا کہ جوہری معاہدہ ملک کے مفاد میں ہے اور اس سے نہ صرف توانائي حاصل ہوگی بلکہ اس معاہدے سے جدید ٹیکنالوجی کی فراہمی بھی آسان ہوجائے گی اور جوہری معاہدے سے ملک کی خارجہ پالیسی متاثر نہيں ہوگی۔
اعلی مدیروں سے بات چیت کے دوران انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ جنوبی ایشیاء میں اپنے پڑوسی ملکوں سے بہتر رشتوں کے خواہاں ہیں اوران ممالک سے اچھے رشتے قائم رکھیں گے۔
واضح رہے کہ گزشتہ منگل کو جوہری معاہدے کی مخالفت میں بائیں بازو کی جماعتوں نے حکومت سے حمایت واپس لے لی تھی جس سے حکومت اقلیت میں آگئی ہے۔ اکیس اور بائیس جولائي کو لوک سبھا کا خصوصی اجلاس طلب کیا گيا ہے۔ بائیس جولائی کو حکومت اعتماد کا ووٹ حاصل کرے گي۔