Sunday, 13 July, 2008, 07:01 GMT 12:01 PST
ہندوستان کے ایٹامک اینرجی کمیشن کے سربراہ انل کاکودکر کا کہنا ہے کہ جوہری معاہدے سے متعلق جوہری توانائی کے بین لااقوامی ادارے آئی اے ای اے سے سیف گارڈ ایگریمنٹ سے ملک کے سٹرٹیجک پروگرام پر منفی اثر نہيں پڑے گا۔
انل کاکودر کے مطابق جوہری معاہدے سے ملک کے مفاد کو خطرہ نہيں ہے۔ مرکزی حکومت نے سنیچر کو کہا تھا کہ اس سمجھوتے کے مسودے میں ہندوستان کے مفاد کو ترجیح دی جائے گی۔
اقوام متحدہ کے ایٹمی ادارے آئی اے ای اے سے سیف گارڈ ایگریمینٹ مجوزہ ہند امریکہ جوہری معاہدے کے لیے لازمی ہے۔
واضح رہے کہ سیف گارڈ ایگریمنٹ پر پیدا ہونے والی نئی صورتحال کے پس منظر میں مرکزي حکومت نے اپنے بعض اعلی افسروں کو میدان میں اتار دیا ہے۔
سنیچر کو قومی سلامتی کے مشیر ایم کے نارائنن، خارجہ سیکریٹری شیو شنکر مینن اور ایٹامک اینرجی کمیشن کے چیئرمین انل کاکودکر اور ویانا میں آئی اے ای اے سے ہندوستان کے اہم مذاکرات کار ڈاکٹر روی گرور نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس بھی کی۔
ان افسران نے نامہ نگاروں کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ معاہدہ کس طرح ہندوستان کے مفاد میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیف گارڈ ایگریمنٹ میں ری ایکٹروں کے لیے بلا رکاوٹ ایندھن کی فراہمی کی گارنٹی ہے۔
افسروں کے مطابق سیف گارڈ ایگریمنٹ ہندوستان کے حق میں ہے اور اس میں جوہری دھماکہ کرنے پر روک لگانے یا نہيں لگانے پر کوئی بحث نہيں ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ کے ساتھ ہونے والے 123 معاہدے میں بھی جوہری دھماکہ کرنے کا ذکر نہيں ہے لیکن ایسی صورت میں سمجھوتے سے ہٹنے کی بات ہے۔
واضح رہے کہ ہند امریکہ جوہری معاہدے کے سوال پر حکومت سے بایاں محاذ الگ ہو چکا ہے جبکہ حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کا کہنا ہے کہ معاہدے کے بعد ہندوستان جوہری دھماکہ کرنے کا مجاز نہيں رہے گا۔