http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 09 July, 2008, 07:23 GMT 12:23 PST

کمیونسٹوں نے صدر سے ملاقات کی

ہندوستان میں حکومت سے حمایت واپس لینے کا اعلان کرنے کے بعد بائیں محاذ کے رہنماؤں نے باضابطہ طور پر اپنے فیصلے سے صدر مملکت کو مطلع کرنے کے لیے بدھ کو صدر سے ملاقات کی ہے۔

صدر پرتیبھا پاٹل سے ملاقات کے بعد مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکریٹری پرکاش کرات نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ انہوں نے دو خطوط صدر کے حوالے کیے ہیں۔ ان کے مطابق ایک خط میں انہوں نے اپنی حمایت کی واپسی کے بارے میں صدر کو مطلع کیا ہے۔ جبکہ دوسرے خط میں صدر سے یہ گزارش کی ہے کہ وہ حکومت کو اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے کہيں۔

ادھربائیں بازو کے رہمناؤں کی ملاقات کے بعد سماج وادی پارٹی کے رہمناؤں نے بھی صدر سے ملاقات کی ہے اور اپنی پارٹی کی جانب سے حکومت کی حمایت کا ایک خط انہیں دیا ہے۔

صدر سے ملاقات کے بعد سماج وادی پارٹی کے جنرل سیکریٹری امر سنگھ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ وہ پہلے سے ہی حکومت کو حمایت دیتے رہے ہيں لیکن بدلتی صورت حال کے سبب انہوں نے اپنی پارٹی کی حمایت کےبارے میں صدر کو ایک بار پھر مطلع کیا ہے۔ سماج وادی پارٹی کے پاس لوک سبھا میں 39 ارکان ہيں۔

منگل کو بائیں بازو کی جماعتوں نے حکومت سے ہند امریکہ جوہری معاہدے پر شدید اختلافات کے سبب اپنی حمایت ختم کردی تھی۔

با‏ئيں بازو کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ جوہری معاہدے کے عوض امریکہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرے گا۔

حکومت نے یہ واضح کیا ہے کہ وہ پارلیمان کا خصوصی اجلاس طلب کرکے اعتماد کا ووٹ حاصل کرے گی۔

وزير اعظم فی الوقت جی ایٹ کے اجلاس میں شرکت کے لیے جاپان میں ہیں اور انہوں نے کہا کہ بائیں محاذ کی حمایت واپسی سے حکومت کے استحکام پر کوئی اثر نہيں پڑے گا۔

اس وقت ایوان زیریں یعنی لوک سبھا میں 543 ارکان ہيں اور مبصرین کی را‏ئے میں حکمراں کانگریس مطلوبہ 272 ارکان کی حمایت حاصل کرنے ميں بظاہر کامیاب ہو جائے گی۔