Tuesday, 08 July, 2008, 10:24 GMT 15:24 PST
ہندوستان میں کانگریس کی قیادت والی وفاقی حکومت سے بائیں محاذ کے الگ ہو جانے کے بعد سماجوادی پارٹی نے کہا ہے کہ وہ حکومت پر آنچ نہیں آنےدے گی۔
بایاں محاذ کےحمایت واپس لینے سے وفاقی حکومت اقلیت میں آگئی ہے لیکن سماجوادی پارٹی نے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ ہند امریکہ جوہری معاہدے پر پارلیمان میں حکمراں یونائٹڈ پروگریسو الائنس یعنی یو پی اے کی حمایت میں ووٹ دے گی۔
پارٹی کے رہنما ملائم سنگھ یادو نے کہا کہ پارٹی کی مجلس عاملہ میں متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ اگر ایوان میں عدم اعتماد کی تحریک لائی جاتی ہے تو ان کی جماعت کے سبھی 39 اراکین پارلیمان حکومت کے حق میں ووٹ دیں گے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ جوہری معاہدے کو لوگ مسلمانوں کے جذبات سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہيں جو بالکل غلط ہے۔ پارٹی کے جنرل سیکرٹری امر سنگھ کا کہنا تھا کہ ’یہ ڈیل مسلمان یا ہندو ڈیل نہیں ہے۔ یہ ملک کے فائدے کے لیے ہے اور ہندوستان کا مسلمان ملک کے مفاد میں اس کی حمایت کرتا ہے۔‘
ادھر حکمراں کانگریس کا کہنا ہے کہ بائيں بازو کی جماعتوں کے فیصلے کے باوجود ان کی حکومت کو کوئی خطرہ نہيں ہے اور وہ پارلیمنٹ ميں اپنی اکثریت ثابت کرنے میں ضرور کامیاب ہوں گے۔
پارٹی کے ترجمان منیش تیواری کا کہنا ہے کہ ’حکومت کو پارلیمنٹ میں اکثریت ثابت کرنے کے لیے مطلوبہ حمایت حاصل ہے۔ حالانکہ پارٹی نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ وزیر اعظم کا انتظار کر رہے ہيں اور آگے کی حکمت عملی ان کے آنے پر ہی طے ہوگا۔‘
حزب اختلاف کی بڑی جماعت بی جے پی نے کہا ہے کہ حکومت کو فوری طور پر پارلیمنٹ میں اپنی اکثریت ثابت کرنی چاہیے۔ پارٹی کے صدر راج ناتھ سنگھ کا کہنا تھا کہ بائيں محاذ اور کانگریس کا اتحاد غیر فطری تھا اور اسے تو ایک نہ ایک دن ٹوٹنا ہی تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس اور کمیونسٹ دونوں ہی نے عوام کے درمیان اپنا بھروسہ کھو دیا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم شروعات سے ہی جوہری معاہدے کی حمایت کر رہے تھے اور ان کی جانب سے کوئی نیا رد عمل ظاہر نہيں
کیا گیا ہے، لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ کمیونسٹوں نے حمایت واپس لینے میں اتنی دیر کیوں لگا دی۔