Saturday, 05 July, 2008, 09:42 GMT 14:42 PST
ہندوستان میں حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما اور پارٹی کے وزير اعظم کے عہدے کے امید وار لال کرشن اڈوانی نے فوری طور پر پارلیمان کا سیشن بلانے اور وزیر اعظم سے اپنی اکثریت ثابت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
دارالحکومت دلی میں موجودہ سیاسی بحران سے متعلق اپنا سخت ردہ عمل ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا ’اپنے فائدے اور مقاصد کے لیے منموہن سنگھ حکومت لوک سبھا میں اپنی اکثریت کھو چکی ہے‘۔
مسٹر آڈوانی کا بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب ہند - امریکہ جوہری معاہدے کے معاملے پر کانگریس کے اتحادی بائیں محاذ نے حکومت سے اپنی حمایت واپس لینے کی دھمکی دے دی۔
ادھر تیسرے محاذ یو این پی اے (یونائڈٹ نیشنل پروگریسو الائنس) کی سب سے بڑی سماج وادی پارٹی نے کہا ہے کہ وہ جوہری معاہدے پر حکومت کے ساتھ ہے اور اشارہ دیا ہے کہ اگر بایاں محاذ حکومت سے حمایت واپس لیتا ہے تو وہ پارلیمان میں حکومت کی حمایت میں اپنا ووٹ دے گی۔
آڈوانی کا کہنا تھا کہ اپنے برتاؤ کے سبب منموہن سنگھ کی حکومت حکمرانی کرنے کا حق کھو چکی ہے اور اب انہیں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ایوان میں ان کے پاس حکمرانی کے لیے اراکین کی مناسب تعداد ہے ۔
اڈوانی نے زور دیتے ہوئے کہا ’یوں تو پارلیمان کا سیشن اگست میں ہونا ہے لیکن جو سیاسی غیر یقینی جاری ہے ، اسے دیکھتے ہوئے پارلیمان کا سیشن فوری طور پر بلائے جائے اور منموہن سنگھ لوک سبھا میں اکثریت ثابت کریں۔ ‘
انہوں نے مزید کہا کہ انہیں لوک سبھا میں’ووٹ آف ٹرسٹ‘ حاصل کرنے کے لیے تجویز پیش کرنا چاہیے۔
|
اکثریت
|
حزب اختلاف کے رہنما نے الزام عائد کیا کہ پچھلے ہفتے سے ملک میں حکومت اور حکمرانی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے اور جہاں ایک طرف بی جے پی آئندہ عام انتخابات کی تیاری کر رہی ہے وہاں حکومت صرف خود کو بچانے میں مصروف ہے۔
ان کا کہنا تھا ’سرکار خود کو بچانے کے لیے سودے بازی کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ کانگریس اور سماجوادی پارٹی نے ہندوستان کی سیاست میں قابل یقینی کھو دی ہے ۔‘
اڈوانی کا کہنا تھا کہ ماضي میں دشمن رہی کانگریس اور سماج وادی پارٹی اب ایسی کوشش کر رہی ہیں کہ کس طرح سودے بازی کر کے ایک اتحاد بنایا جائے۔
ہند جوہری معاہدے کو لیکر ملک میں سیاسی بحران جاری ہے۔ اس وقت سب سے بڑا سوال یہ ہے اگر بائيں محاذ حکومت سے اپنی حمایت واپس
لے لیتا ہے تو کیا ہوگا؟ لوک سبھا کی کل 545 سیٹیں ہیں اور اکثریت حاصل کرنے کے لیے 273 سیٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
|
یقین
|
فی الوقت سماج وادی پارٹی کے 39 اراکین ہیں۔ اور کانگریس اس امید میں ہے کہ چھ آزاد اور چار دیگر اراکین کی مدد سے وہ آسانی سے اپنی اکثریت ثابت کر دے گي۔