Wednesday, 02 July, 2008, 06:59 GMT 11:59 PST
بینو جوشی
بی بی سی، جموں
امرناتھ مندر بورڈ کو دی گئی زمین واپس لینے کے فیصلے کے خلاف جموں ميں احتجاج مظاہروں ميں تیزی آنے کے خدشات ہیں اور بعض علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔
منگل کو ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزير اعلی غلام نبی آزاد کی صدارت میں کابینہ کی ایک میٹنگ ہوئی تھی جس میں امرناتھ بورڈ کو زمین دینے کے آرڈر کو منسوخ کر دیا گيا تھا۔
اس سے قبل زمین کی منتقلی کے معاملے پر وادی میں پر تشدد احتجاج ہوئے تھے اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے اس معاملے پر کانگریس کی قیادت میں قائم مخلوط حکومت کی حمایت سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا تھا۔
دوسری جانب ہندو اکثریت والے جموں خطے ميں بھارتیہ جنتا پارٹی ، شوسینا اور وشو ہندو پریشد جیسی تنظیمیں ریاست کے زمین منتقلی واپس لینے کے فیصلے کی مخالفت کر رہے ہیں۔
ان تنظیموں نے پیر کو 72 گھنٹے کی مہلت دی تھی جو بدھ کو ختم ہو رہی ہے۔
منگل کو جموں کے کئی علاقوں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان پر تشدد جھڑپیں ہوئیں جس میں بیس سے زیادہ افراد زخمی بھی ہوئے۔
حالات اب بھی کشیدہ ہیں اور انتظامیہ نے بعض حساس علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔
وشو ہندو پریشد نے زمین منتقلی کو واپس لیے جانے کے خلاف جمعرات کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔