Sunday, 22 June, 2008, 13:33 GMT 18:33 PST
ریاض مسرور
بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں شدت پسندوں اور پولیس کے درمیان مختلف جھڑپوں میں آٹھ شدت پسند مارے گئے ہیں، جبکہ ایک تصادم میں نیم فوجی عملے کا ایک جوان بھی ہلاک ہوگیا ہے۔
فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے کنٹرول لائن پر دراندازی کی ایک کوشش کو ناکام بناتے ہوئے چار مسلح شدت پسندوں کو ہلاک کردیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق سرینگر کے مشرقی علاقہ زکورہ میں لشکر طیبہ سے وابستہ دو مسلح شدت پسندوں کی موجودگی کے بارے میں مصدقہ اطلاع ملی تو پولیس اور نیم فوجی دستے سی آر پی ایف نے اتوار کی صُبح علاقہ کو محاصرے میں لے لیا۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ محاصرے کے دوران مسلح شدت پسندوں نے پولیس پر فائرنگ کی تاہم جوابی کارروائی میں لشکر طیبہ سے وابستہ دونوں شدت پسند ہلاک ہوگئے۔
تصادم میں سی آر پی ایف کا ایک اہلکار بھی مارا گیا جبکہ پولیس افسر سمیت چار سیکورٹی جوان زخمی ہوگئے۔ علاقے میں کئی گھنٹوں تک فورسز کا محاصرہ جاری رہا جس دوران خانہ تلاشیاں کی گئیں۔
اتوار کو ہی جنوبی قصبہ عشمقام میں فوج نے لشکر طیبہ کے دو مسلح شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا جن کی شناخت جموں کے نذیر احمد ابو محمد اور سیالکوٹ پاکستان کے اسداللہ کے طور پر کی گئی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے نذیر لشکر طیبہ کا ڈویژنل کمانڈر برائے راجوری پونچھ تھا۔ راجواری اور پونچھ جموں ڈویژن کے دو اہم مسلم اکثریتی علاقے ہیں، جو تاریخی مغل روڑ کے بند پڑے رہنے سے کشمیر خطے سے سالہال سال سے منقطع ہیں۔
اِدھر فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ شمالی کشمیر کے کپوارہ ضلع میں گگلگیر سیکٹر میں چار مسلح شدت پسند مارے گئے جو لشکر طیبہ سے وابستہ تھے۔
ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ’یہ لوگ ہمارے کشمیر میں داخل ہونا چاہتے تھے، ہمارے جوانوں نے انہیں رُکنے کے لئے کہا لیکن انہوں نے فائر کھولا، جوابی کارروائی میں چاروں مارے گئے۔‘