Sunday, 15 June, 2008, 13:21 GMT 18:21 PST
شکیل اختر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
پراسرار قتل
ہندوستان میں انڈین پریمیئر لیگ یعنی آئی پی ایل کے کرکٹ میچوں نے ٹیلی ويژن پر مقبولیت کے سارے ریکارڈ توڑ دیے۔ لیکن گزشتہ مہینے
دِلّی سے ملحقہ علاقے نوئیڈا میں دوہرے قتل کے ایک واقعہ نے عوامی دلچسپی کے سارے ریکارڈ توڑ دیے ہيں۔
15 مئي کے اس واقعہ میں ایک ڈاکٹر والدین کی چودہ سالہ بچی اور ان کے گھریلو ملازم کا قتل ہوا تھا۔ قتل ابتداء سے ہی انتہائی پراسرار بنا ہوا ہے۔ پولیس نے بچی کے قتل کے لیے ان کے والد کو گرفتار کر لیا تھا، لیکن کیس سی بی آئی کے پاس جانے کے بعد اس واقعہ میں روزانہ نیا ڈرامائي موڑ آرہا ہے۔
یہ واقعہ ایک مہینے سے ملک کے اخبارات اور ٹیلی ویژن کی پہلی خبر بنا ہوا ہے۔ سی بی آئی کے ڈائرکٹر کا کہنا ہےکہ یہ واقعہ ان کی تنظیم کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔
پارسیوں کی گھٹتی تعداد پر تشویش
![]() |
|
| اقلیتی کمیشن کے ایک حالیہ سروے سے پتہ چلا ہے کہ 2006 میں پارسیوں کی تعداد گھٹ کر 60000 رہ گئی ہے |
اقلیتی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق پارسیوں میں شادی نہ کرنے کے بڑھتے ہوئے رجحان، دیر سے شادی کرنے اور طلاق کے سبب بچوں کی پیدائش کی شرح مسلسل گھٹتی جارہی ہے۔ اقلیتی کمیشن پارسیوں کے لیے پروگرام شروع کر رہا ہے تاکہ انہيں درپیش خطروں سے آگاہ کیا جا سکے، بیشتر پارسی مہاراشٹر اور گجرات میں آباد ہيں۔
پرائیوٹ ہوائي اڈے
![]() |
|
| دِلّی میں پہلے پرائیوٹ ہوائي اڈے کی تعمیر کے منصوبے کو منظوری دے دی ہے |
ہندوستان اس وقت ذاتی سفر کے لیے پرائیویٹ جہاز خرید نے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ اگر آپ دِلّی، احمدآباد، بنگلور، ممبئي، کولکاتہ، اور چنئی جیسے بڑے ہوائي اڈوں پر اتریں تو وہاں آپ کو پچاسوں چھوٹے بڑے پرائیوٹ ہوائی جہاز کھڑے ہوئے ملیں گے جو سبھی صنعت کاروں اور ملک کے نئے امراء کے ہيں۔
پرائیوٹ جہازوں کی بڑھتی ہوئي تعداد کے پیش نظر حکومت نے دِلّی میں پہلے پرائیوٹ ہوائي اڈے کی تعمیر کے منصوبے کو منظوری دے دی ہے۔
پاک قیدویوں کی ہلاکت جاری
![]() |
|
| حال ہی میں پاکستان نے بھارتی شہری کشمیر سنگھ کو رہا کیا تھا |
ہندوستان کی جیلوں کا شمار دنیا کی بدترین جیلوں میں ہوتا ہے۔ اس طرح کی ہلاکتوں کی کبھی آزادانہ تحقیقات نہيں ہوئيں اور قیدی اگر پاکستانی ہو تو پھر یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہوتا ہے وہاں جوابدہی کی ضروت نہيں ہوتی۔
اعلیٰ پولیس افسر پر نقل کرنے کا الزام
![]() |
|
| سہراب الدین کے فرضی مڈھ بھیڑ کے معاملے میں ڈی جی ونجارہ سمیت تین اعلی پولیس اہلکاروں کو رجنیش رائے نے ہی گرفتار کیا تھا۔ |
ڈی آئی جی رائے ایک عرصے سے حکومت کی نظر میں تھے۔ انہیں ایک قابل اور ایمان دار پولیس افسر سمجھا جاتا ہے۔ سہراب الدین کے فرضی مڈھ بھیڑ کے معاملے میں ڈی جی ونجارہ سمیت تین اعلیٰ پولیس اہلکاروں کو انہوں نے ہی گرفتار کیا تھا۔
انہوں نے حکومت سے اجازت لیے بغیر ایک وزیر کے گھر پر بھی چھاپہ مارا تھا اور ایک قتل کے معاملے میں ایک بلڈر کو گرفتار کیا تھا جس سے حکمران جماعت کے بہت لوگ خوش نہیں تھے۔
رجنیش رائے نے نقل کرنے سے پوری طرح انکار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جس فٹ رول کو نقل کا بہانہ بنایا گیا ہے اس پر ان کے چھ سال کے بچے نے کچھ لکھا تھا جس کا کوئی تعلق قانون کے امتحان سے نہیں ہے۔