Sunday, 25 May, 2008, 15:24 GMT 20:24 PST
شکیل اختر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
13 مئی کے جے پور دھماکوں کے سلسلے میں پولیس ابھی تک کوئی ٹھوس سراغ حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ گزشتہ دنوں دلی پولیس نے محمد اقبال عرف عبدالرحمان نامی ایک شخص کو گرفتار کیا ۔پولیس کا دعویٰ ہے اقبال شدت پسند تنظیم حرکت المجاہدین اسلامی کا رکن ہے اور اسے جے پور دھماکوں کی جانکاری تھی ۔پولیس کے مطابق اقبال یو پی، دلی اور سمجھوتہ ایکسپریس کے دھماکوں میں مطلوب تھا۔
جے پور کے دھماکوں کے بعد راجستھان، مہاراشٹر، اتراکھنڈ اور دلی جیسی ریاستوں میں پسماندہ بستیوں میں رہنے والے بنگالی بولنے والے مسلمانوں پر مصیبت ٹوٹ پڑی ہے۔ غیر قانونی بنگلہ دیشی تارکین وطن کی تلاش کے نام پر بنگالی مسلمانوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ ان ریاستوں میں لاکھوں بنگالی کام کر رہے ہیں۔ اور اس وقت ہر جگہ ان کی برادری میں سراسیمگی پھیلی ہوئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان غریب بنگالیوں کی سننے والا کوئی نہیں ہے۔ مغربی بنگال کی مارکسی حکومت نے اپنے شہریوں پر ہونے والی زیادتی کے خلاف ایک بار بھی آواز نہیں اٹھائی ہے ۔
پٹرول کی قیمت گلے کا پھندہ
![]() |
|
| آئندہ ایک روز میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے |
پٹرول کی قیمت حکومت کے گلے کا پھندہ بن گئی ہے۔ ہندوستان میں حکومت کی تمام کوششوں کے باوجود افراط زر کی شرح قابو میں نہیں آرہی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے نے تو صورتحال انتہائی خراب کر دی ہے ۔
پٹرولیم کی وزارت نے گوشتہ دنوں وزیر اعظم سے سفارش کی ہے کہ پٹرول کی قیمت میں دس روپے اور ڈیزل کی قیمت میں پانچ روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا جائے۔ بین الاقوامی قیمتیں بڑھنے سے تیل کمپنیون کو تقریبآ چھ سو کروڑ روپے روزانہ کا نقصان ہو رہا ہے۔ آئندہ ایک روز میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے لیکن شاید اس حد تک نہیں جتنے کی سفارش کی گئی ہے۔
آئندہ مہینوں میں کئی ریاستوں میں انتخاب ہونے والے ہیں۔ کھانے پینے کی اشیا کے داموں میں زبردست اضافے سے حکومت پہلے ہی پریشان ہے۔ لیکن تیل کی قیمتوں میں اضافہ کرنا ناگزیر ہے۔ حکومت سخت مشکل میں ہے۔
وزیر اعظم کے بچپن کے دوست
![]() |
|
| منموہن سنگھ کے دوست پاکستان سے آئے ہیں |
راجہ محمد علی اپنےساتھ گاؤں کی مٹی اور ایک بوتل میں وہاں کا پانی لائے ہیں۔ راجہ محمد علی اپنے ساتھ منموہن سنگھ کا درجہ چار تک کا رپورٹ کارڈ بھی لائے ہیں۔
سیاست کی پیچیدگیوں میں پھنسے ہوئے مسٹر سنگھ بھی بے فکری کے زمانے کے اپنے دوستوں سے ملنے کی راہ دیکھ رہے ہیں۔ان حالات میں کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ مسٹر سنگھ کا پرائمری کا رپورٹ کارڈ ان کی موجودہ کارکردگی سے کہیں بہتر ہے۔
انٹرنٹ کے استعمال میں اضافہ
![]() |
|
| گزشتہ برس کے مقابلے تین فی صد زیادہ لوگ انٹرنیٹ کا استعمال کر رہے ہیں |
آن لائن تحقیقی اور مشاورتی فرم جکسٹ کنسلٹس نے پورے ملک میں 40 شہروں اور 160 گاؤں میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کاجائزہ لینے کے بعد کہا ہے کہ شہری علاقوں میں ہر دس میں سے ایک شہری اب ’کنکٹڈ‘ ہے۔ یہ تعداد گزشتہ برس کے مقابلے تین فی صد زیادہ ہے ۔
جائزے میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً ستر فی صد صارفین ہندوستانی زبانوں میں نیٹ پر لاگ کرتے ہیں ۔انگریزی کا استعمال کرنے والوں کا فی صد 28 ہے ۔ گزشتہ برس ان کی تعداد 41 فی صد تھی۔
ہندوستان میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں میں خواتین کی تعداد 20 فی صد سے بھی کم ہے۔ 51 فی صد نیٹ صارفین ایسے ہیں جو بڑی بڑی کمپنیوں میں ملازم ہیں۔ جائزے کے مطابق سب سے زیادہ نیٹ کا استعمال جنوبی ہندوستان میں ہے اور سب سے کم ملک کی مشرقی ریاستوں میں ہے۔
بیماریوں پر 237 ارب ڈالرخرچ ہونگے
![]() |
|
| سنہ 2015 تک بیماریوں پر مجموعی طور پر 237 ارب ڈالر خرچ ہونگے |
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان بیماریوں سے ہندوستانیوں کو 2005 میں تقریباً نو ارب ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔ 2015 میں یہ اخراجات بڑھ کر 54 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔
رپورٹ کے مطابق ان بیماریوں سے پاکستانی شہریوں کو مجموعی طور پر تقریباً 31 ارب ڈالر کا نقصان ہو گا۔ انفرادی طور پر ہر برس پاکستان میں چھ ارب روپے ان بیماریوں کے علاج اور ان سے دیگر امورپر خرچ ہونگے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے چین کی حالت اس سے بھی زیادہ بری ہو گی اور وہاں بیماریوں کے علاج پر 2015 تک 550 ارب ڈالرسے زیادہ خرچ ہونگے۔