Friday, 23 May, 2008, 14:29 GMT 19:29 PST
ریاض مسرور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، سرینگر
بھارتی صدر جمہوریہ پرتیبھا پاٹِل نے جمعہ کے روز جموں کشمیر میں کنٹرول لائن کے قریب فوجی جوانوں سے خطاب کے دوران کہا کہ دراندازی یا کسی بھی قسم کی جارحیت کا پوری قوت کے ساتھ جواب دیا جائے گا۔
محترمہ پاٹِل جمعہ کو ریاست کے پانچ روزہ دورے پر سرینگر پہنچی ہیں جہاں اعلیٰ فوجی و سِول حکام نے ان کا استقبال کیا۔ ان کے ہمراہ بھارت کی بری فوج کے سربراہ جنرل دیپک کپور اور دیگر اعلیٰ افسران بھی تھے۔
یہاں سے وہ فوج کے خصوصی ہیلی کاپٹر میں شمالی کشمیر میں کنٹرول لائن پر اگلی فوجی چوکیوں کے معائنہ کے لیے تنگدھار روانہ ہوئی۔
واپسی پر انہوں نے بارہ مولہ کی فوجی چھاونی میں جوانوں کے ’سینکِل دربار‘ سے خطاب کیا۔
اس موقع پر انہوں نے پاکستان کا نام لیے بغیر جوانوں کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہا ’ ہم کسی بھی قسم کی جارحیت کا پوری قوت سے جواب دینے کے اہل ہیں۔ ہمیں اپنی سرحدوں کی خلوص اورحفاظت بہادری کے ساتھ کرنی ہوگی۔ مجھے یقین ہے کہ ہماری سرحدوں پر ہونے والی کسی بھی قسم کی جارحیت سے ہم پوری قوت کے ساتھ نمٹے گے۔کیونکہ جب سرحدیں محفوظ ہوتی ہیں، تبھی ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتا ہے۔‘
انہوں نے کہا’ ہماری ہمیشہ سے یہ کوشش ہے کہ فوج کو بہترین تربیت اور جدید ترین ہھتیاروں و دیگر ٹیکنالوجی سے لیس کیا جائے۔‘
|
مضبوط سرحدیں
|
انہوں نے ریاست میں فوج کی خیرسگالی سرگرمیوں کی ستائش کی اور کہا ’میں جانتی ہوں کہ جموں کشمیر میں بھارت کی فوج اور نیم فوجی عملہ سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ یہاں کی ترقی اور سماجی بہبود کے کاموں میں بھی پیش پیش ہے۔اس سے یہاں کے شہریوں کو کافی مدد ملی ہے۔‘
انہوں نے فوجی جوانوں کو یقین دلایا کہ حکومت ان کی اور ان کےاہل خانہ کی فلاح و بہبود کے لیے کوشاں ہے اور اس کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
پرتیبھا پاٹل، جو بھارتی افواج کی سپریم کمانڈر بھی ہیں، نے کشمیر میں تعینات فوج سے مخاطب ہوکر کہا ’مجھے مکمل یقین ہے کہ آپ
اپنے اہداف کو حاصل کريں گے۔ میں آج یہاں سے یہ اطمینان لے کر جارہی ہوں کہ بھارت کی سرحدیں آپ کے ہاتھوں میں محفوظ ہیں۔‘
|
سیکورٹی کے نام
|
پانچ روزہ قیام کے دوران محترمہ پرتیبھا پیر کے روز کشمیر یونیورسٹی میں کشمیر سے متعلق ایک تحقیقی ادارے کا افتتاح کرنے کے علاوہ کئی تفریحی مقامات کا دورہ کرینگی۔
اس دوران انتہائی سخت سیکورٹی انتظامات پر کشمیریونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین نے پیرکو یونیورسٹی بند کی کال دی ہے۔
یونین کے صدر ثاقب قادری نے بی بی سی کو بتایا’ سیکورٹی کے نام پر ہمارے ساتھ زیادتیاں ہورہی ہیں۔ اتنا بڑا پروگرام ہے اور ہمیں انتظامیہ نے اعتماد میں نہیں لیا تھا۔ ہوسٹل ہو یا کینٹین یہاں ہر جگہ ہراساں کیا جارہا ہے۔ ہوسٹل میں ایک ہزار طلبا وطالبات زیرتعلیم ہیں اور ہم سب کو کہا جارہا ہے کہ سیکورٹی کی وجہ سے ہمیں ہوسٹل خالی کرنا ہوگا۔ بیشتر طلبا بے بسی کی حالت میں چلے گئے ہیں حالانکہ یہ تعلیمی سال کا اہم وقت ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ صدر صاحبہ کے دورے کا نتیجہ طلبا کی تنگ طلبی کے سوا کچھ نہیں نکل رہا ہے۔ اسی لیے ہم صدر صاحبہ کی آمد کا بائیکاٹ کرینگے۔‘
اس دوران سینئر علیحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی کی کال پر وادی کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے، جو مجموعی طور پر امن رہے۔