Wednesday, 14 May, 2008, 11:42 GMT 16:42 PST
صلاح الدین
بی بی سی اردو ڈاٹ کام جےپور
مغربی ریاست راجستھان کا دارالحکومت جے پور تیرہ مئی کے بم دھماکوں سے پوری طرح ہل گیا ہے۔ لوگوں میں دہشت تو ہے لیکن اس سے زیادہ
لوگوں میں زبردست غم و غصہ ہے پایا جاتا ہے۔ ذرائع ابلاغ کی خبروں میں حرکت الجہاد اور بھارت میں مسلمان نوجوانوں کی تنظیم سیمی
کا نام سننے کے بعد بہت سے لوگ اس میں مسلمانوں کے ملوث ہونے پر یقین رکھتے ہیں۔
کرفیو سے قبل متاثرہ علاقوں میں مندروں کے پاس لوگوں کا ہجوم نظر آیا اور کرفیو کے نفاذ کے لیے پولیس کو سختی بھی برتنی پڑی۔ بڑی چوپاڑی پر زیادہ بھیڑ تھی۔
اسی بھیڑ میں مکیش نامی ایک شخص نے بڑے غصے میں کہا ’لعنت ہے اس سرکار پرجو پاکستان سے دوستی کا ہاتھ بڑھا رہی ہے، حکومت بس ٹرین
چلارہی ہے یہ سب نوٹنکی ہے‘۔
![]() |
|
مندر کے ایک پجاری وجے شنکر پانڈے کا کہنا تھا ’مندروں کے آس پاس حملے کا مطلب یہی ہے کہ بعض لوگ ہندوؤں کو پوجا سے ڈرانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن وہ غلطی پر ہیں ہم اس سے اپنی پوجا پاٹ میں اور مضبوط ہوں گے۔‘
سوائی مدھو سنگھ ہسپتال میں سنجے بھاٹیہ زخمی حالت میں ہیں۔ کالج میں تعلیم یافتہ ان کی بیٹی کہتی ہیں کہ، سرکار باتیں بناتی ہے اور کرتی کچھ نہیں ہیں آخر حفاظت کی ذمہ داری کس کی ہے؟ میں کیا بتاؤں مجھے تو لگتا ہے کہ یہ مسلمانوں نے ہی کیا ہوگا کیونکہ ان کے کسی علاقے میں تو بلاسٹ ہوا نہیں۔‘
اس بھیڑ میں جگدیش نامی ایک شخص نے کہا کہ ’یہ آپ ہی لوگ ہیں جو بار بار اس طرح کی خبریں دے رہے ہیں کہ مندر پر حملے ہوئے جبکہ
حقیقت میں ہوا یہ ہے کہ یہ دھماکے مندر سے دور دور ہوئے ، آپ لوگ تو جھگڑا نہ بھی ہو تو کراوکے چھوڑوگے۔‘
![]() |
|
جے پور کے جن علاقوں میں دھماکے ہوئے ہیں وہاں مسلمانوں کی بھی آبادی ہے مگر ہندوؤں کے مقابلے میں قدر کم ہے۔ اس میں ہلاک اور زخمی ہونے والے بھی بہت سے مسلمان ہیں اور زیادہ تر محنت مزدوری کرنے والے لوگ ہیں۔
کرفیو کے بعد بیشتر علاقوں میں خاموشی رہی لیکن لوگوں کی بات چیت سے پتہ چلتا ہے کہ ان میں زبردست غصہ ہے اور اندر اندر سے ایک کھلبلی مچی ہوئی جس پر قابو پانے کے لیے لوگ آپس میں بات چیت کا سہارا لے رہے ہیں۔
شہر کے کرفیو زدہ علاقے میں پولیس اور ریپیڈ ایکشن فورس کے جوان بڑی تعداد میں تعینات ہیں۔ لیکن اس کے باوجود آر ایس ایس کے کارکنان بھی بڑی تعداد میں ہسپتال کے ہر طرف گھومتے نظر آئے۔