Wednesday, 14 May, 2008, 13:07 GMT 18:07 PST
بھارت کی ریاست راجستھان کے دارالحکومت جے پور میں ہونے والے سلسلے وار سات بم دھماکوں کے بعد خارجہ سیکریٹری شیو شنکر مینن نے کہا ہے کہ آئندہ پاک بھارت مذاکرات کے دروان دہشت گردی ایک اہم موضوع ہوگا۔
بدھ کو دلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مینن نے کہا کہ ہند پاک باہمی مذاکرات کے لیے پہلے سے طے چھ موضوعات کے ساتھ ’دہشت گردی ‘ایک اضافی موضوع ہوگا۔
شیو شنکر مینن باہمی مذاکرات کے لیے انیس مئی کو اسلام آباد پہنچ رہے ہيں جہاں داخلہ سیکریٹری کی سطح پر بیس مئی کو مذاکرات ہونے والے ہيں جبکہ اکیس مئی کو ہندوستان کے وزیر خارجہ پرنب مکھرجی اور پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ’کمپوزٹ ڈائیلاگ‘ دوبارہ شروع کرنے والے ہیں۔
دوسری جانب مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ شری پرکاش جیسوال نے بدھ کو دلی میں نامہ نگارورں کو بتایا ہے کہ جے پور دھماکوں میں غیر ملکی ہاتھ ہیں۔ تاہم انہوں نے کسی ملک کا نام نہیں لیا ہے۔
انہوں دھماکوں کی فوری اور مؤثر تفتیش کے لیے ایک مرکزی تفتیشی ادارے کی ضرورت پر دیا، تاہم انہوں نے کہا کہ بعض ریاستيں اس تجویز کی مخالف ہيں۔
مقامی خبرر ایجنینسی پی ٹی آئی کے مطابق دھماکے کے بعد ابتدائی پوچھ گچھ کے لیے آٹھ افراد کو حراست میں لے لیا گيا ہے۔
واضح رہے کہ منگل کی شام جے پور میں ہونے والے سلسلہ وار سات بم دھماکوں میں ترسٹھ افراد ہلاک اور دو سوسے زآئد افراد زخمی ہوئے تھے۔