Tuesday, 13 May, 2008, 20:41 GMT 01:41 PST
بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے جے پور میں ہونے والے سلسلہ وار دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے جے پور کے عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔
ریاست راجستھان کے دارالحکومت جے پور میں ہونے والے سلسلہ وار بم دھماکوں کی سبھی حلقوں میں مذمت کی جارہی ہے۔
حکمراں متحدہ ترقی پسند اتحاد کی سربراہ سونیا گاندھی نے ان دھماکوں کو’انسانیت کے خلاف جرم‘ قرار دیا ہے۔ وزیراعظم منموہن سنگھ نے راجستھان کی وزیراعلی سے فون پر بات کی ہے اور مرکز کی جانب سے ہر قسم کی مدد کا یقین دلایا ہے۔
دوسری جانب حزب اختلاف کی جماعت بھاریتہ جنتا پارٹی نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کانگریس کی زیرِ قیادت قائم مرکزي حکومت پر ’دہشت گردی‘ کے تیئں نرم رویہ رکھنے کا الزام عائد کیا ہے۔
بی جے پی کے صدر راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ یہ دھماکہ در اصل پاکستان میں واقع دہشت گرد تنظیموں کی ہندوستان میں بڑھتی ہوئی سرگرمیاں کی علامت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مرکز کو ہر ممکن قدم اٹھانے چاہیے تاکہ ایسی سرگرمیوں پر قابو پایا جا سکے۔
بی جے پی کے سینئر رہنما مختار عباس نقوی کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات کے لیے حکومت کی کمزور پالیساں ذمہ دار ہيں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس واقعہ سے ثابت ہوگیا ہے کہ متحدہ ترقی پسند اتحاد کی حکومت ایک ناکام حکومت ہے۔
ادھر مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ شری پرکاش جیسوال کا کہنا تھا کہ اس واقعہ پر سیاست کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور راجستھان حکومت کو جس طرح کی مدد چاہیے ہوگی وہ مرکزی حکومت فراہم کرے گی۔
صدر پرتیبھا پاٹل اور نائب صدر حامد انصاری نے بھی ان دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے لواحقین کے ورثاء کے ساتھ اپنی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔
بھارتی رہنماؤں کے علاوہ پاکستان میں حکمراں پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری اور مسلم لیگ ن کے رہنما نواز شریف نے بھی جے پور کے بم دھماکوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور ایک پیغام میں ان رہنماؤں نے ہلاک شدگان کے رشتے داروں سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔