Wednesday, 07 May, 2008, 14:55 GMT 19:55 PST
خدیجہ عارف
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
ہندوستان میں حکومت نے راجیہ سبھا یعنی ایوان بالا میں گزشتہ روز خواتین کو پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں 33 فیصد کوٹہ مختص کرنے والا بل بعض سیاسی جماعتوں کی مخالفت کے باوجود پیش کردیا۔
ابھی اس بل کو لوک سبھا میں پیش ہونا ہے۔ چونکہ یہ ایک آئینی ترمیمی بل ہے اس لیے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت سے اس کا پاس ہونا ضروری ہے لیکن مبصرین کے نزدیک سوال یہ کہ اگر سیاسی جماعتیں خواتین کو سیاست میں لانا چاہتی ہیں تو وہ کیوں نہیں پارٹی کے اندر ان کی نمائندگی بڑھاتیں۔
ہندوستان میں مختلف سیاسی جماعتیں ہيں اور ہر سیاسی جماعت کی اپنی شناحت ہے اور ایسے حالات میں تمام طبقوں کی نمائندگی بھی ممکن ہے۔ اور اس عمل سے کسی کو اختلاف نہیں ہوسکتا ہے۔
تقریباً 12 برس سے سرد خانے میں پڑے اس بل پرایک بار پھر سیاست شروع ہوگئی ہے اور مبصرین کے نزدیک پسماندہ خواتین کے لیے کوٹہ مانگنے کا مطلب ہے کہ بل کی منظوری میں مزید تاخیر ہو۔
سنئیر صحافی اور سیاسی تجزیہ نگار نیرجا چودھری کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کی منشاء بل کو پاس کرنے کی ہوتی تو یہ بہت پہلے ہوچکا ہوتا۔ ’اس بل کے بارے میں کوئی سنجیدہ نہیں ہے۔ ہر پارٹی کو اس سے کوئی نہ کوئی پریشانی ہے‘۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ حکومت اپنی اتحادی جماعت جیسے راشٹریہ جنتا دل یا لالو یادو کی مخالفت کر کے بِل کو پاس نہیں کراسکتی ہے اور اسے اس کے لیے اپنی اتحادی جماعتوں کو تیار کرنا بہت ضروری ہے۔
سماج وادی پارٹی کے ممبر ابو عاصم عاظمی کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی کا خواتین کے لیے ریزرویشن کا مطالبہ درست ہے کیونکہ اگر پسماندہ خواتین کو الگ سے ریزرویشن نہیں دیا گیا تو پارلمینٹ میں ان کی موجودگی نہ ہونے کے برابر ہوگی۔
یہ پوچھے جانے پر کر جب آئین میں مردوں کے لیے پارلیمنٹ میں ذات اور مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن کی گنجائش نہیں ہے تو خواتین کے لیے ایسا کیوں تو ان کا کہنا تھا ’حکومت کو اگر پسماندہ اور اقلیت کی خواتین کے لیے ریزرویشن دینے کے لیے آئین میں بھی ترمیم کرنی پڑے تو اسے کرنی ہوگی۔
اس کے بعد ایک سوال یہ اٹھتا ہے کہ جس ملک کی صدر خاتون ہیں، ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش کی وزیر اعلیٰ خاتون ہیں، حکمراں اتحاد یو پی اے کی کنوینر خاتون اور ایک خاتون وزیر اعظم رہ چکی ہیں، تو کیا پارلمینٹ میں 33 فی صد ریزرویشن واقعی انہیں سیاسی میدان میں آگے لانے میں مدد کرے گی یا یہ صرف ایک علامتی قدم ہے۔
سوال یہ بھی ہے کہ اگر خواتین کو سیاست میں واقعی آگے لانا ہے تو سیاسی پارٹیاں انہیں ٹکٹ کیوں نہیں دے دیتی ہے یا ٹکٹوں میں ان کی تعداد بڑھا دیتی۔
ہندوستان کی عوام خواتین کے لیے ووٹ کرتی ہے اور مضبوط ارادے والی عورت ہو تو اسے ووٹ ملتے ہیں اور اس کی مثال اترپردیش میں مایاوتی ہیں جو دلت بھی ہیں، انہیں ذات پات کے نظام پر سختی سے عمل کرنے والے اترپردیش نے سر آنکھوں پر بٹھایا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ہندوستانی سیاست میں مردوں کا غلبہ ہے اور سیاست میں موجود بیشتر مرد اور ان کی پارٹیاں کسی نہ کسی بہانے سے بل کو دیر کرنے کے لیے جو کچھ کرسکتے ہیں کریں گے۔