http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 07 May, 2008, 06:55 GMT 11:55 PST

شکیل اختر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

ہند۔امریکہ جوہری معاہدہ، تعطل برقرار

ہندوستان میں ہند امریکہ جوہری معاہدے کے تنازعہ پر حکومت اور اس کی اتحادی کمیونسٹ جماعتوں کے درمیان بات چیت میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔ اس معاہدے پر مئی کے آخر میں دوبارہ بات چیت ہوگی۔ لیکن بظاہر یہ معاہدہ اب تکمیل تک پہنچتا ہوا نہیں لگ رہا ہے۔

حکمران اتحاد میں شامل بائیں بازو کی جماعتیں ابتداء سے ہی امریکہ سے جوہری معاہدے کی مخالفت کر رہی ہیں۔ کل رات بھی حکمراں اتحاد کے رہنماؤں سے دو گھنٹے کی طویل بات چیت کے بعد بھی کو‏ئی پیش رفت نہ ہو سکی۔

کمیونسٹ جماعتوں نےحکومت سے وضاحت طلب کی ہے کہ کیا معاہدے کے تحت جوہری ایندھن کی سپلائی ہر حال میں جاری رہے گی۔ انہوں نے یہ بھی جاننا چاہا ہے کہ کیا دیسی ٹیکنالوجی سے بنے ہوئے جوہری ری ایکٹر بھی بین الاقوامی معائنے کے دائرے میں آئیں گے۔

وزیر خارجہ پرنب مکھرجی نے میٹنگ کے بعد نامہ نگاروں کو بتایا کہ حکومت اور کمیونسٹ رہنماؤں کے درمیان 28 مئی کو ایک اور میٹنگ ہو گی۔

ہندوستان جوہری ایندھن سپلائی کرنے والے ملکوں کی منظوری حاصل کرنے کے لیے جوہری توانائی کے عالمی ادارے آئی اے ای اے سے مذاکرات کر رہا ہے اور کل کی میٹنگ میں کیمنسٹوں کے سامنے حکومت نے یہ تجویز رکھی تھی وہ مذاکرات کے لیے رضامند ہو جائیں لیکن وہ مزید وضاحتوں کے بغیر جوہری معاہدے کی سمت مزید پیش قدمی کی مخالفت کر رہے ہیں ۔

وہ آئی اے ای اے سے معاہدے کا متن بھی دیکھنا چاہتے تھے۔ لیکن حکومت نے معاہدے کی نقل دکھانے سے یہ کہ کر انکار کر دیا کہ اس سے بات چیت کے ضوابط کی خلاف ورزی ہوگی۔

حزب اختلاف کی جماعت بی جے پی اور حکومت کی اتحادی کمیونسٹ جماعتیں مجوزہ ہند امریکہ جوہری معاہدے کی یہ کہ کرمخالفت کر رہی ہیں کہ اس سے ملک کا جوہری پروگرام اور خارجہ پالیسی امریکہ کے تابع ہو کر رہ جائےگی۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ آئندہ برس پارلیمانی انتخابات ہونے والے ہیں اور زبردست مہنگائی، عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے اور غذائی اشیا کی قلت کے سبب حکمراں کانگریس کمیونسٹوں کو ناراض نہیں کرنا چاہتی۔ اسے یہ اندیشہ ہے کہ آئندہ انتخابات میں کہیں اسے دوبارہ ان کی ضرورت نہ پڑ جائے۔ حکومت نے پہلے بھی اشارے دیئے ہیں کہ وہ جوہری معاہدے کے لیے حکومت قربان نہیں کرنا چاہتی۔