Wednesday, 23 April, 2008, 02:42 GMT 07:42 PST
بھارت کی حکومت نے امریکہ کی اس تجویز کو سختی سے رد کردیا ہے کہ وہ ایران کو یورینیئم کی افزودگی سے باز رہنے کے لیے کہے۔
بھارت کی وزارت خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ نہ تو بھارت کو نہ ہی ایران کو اپنے آپس کے تعلقات کے بارے میں کسی بیرونی مشورے کی کوئی ضرورت ہے۔
ایرانی صدر انتیس مارچ کو بھارت کے مختصر دورے پر پہنچیں گے اور اپنے مختصر دورے میں وہ وزیر اعظم من موہن سنگھ کے ساتھ ملاقات کریں گے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات صدیوں سے قائم ہیں اور دونوں ملک پوری احتیاط کے ساتھ ان تعلقات کو قائم رکھنے کے لائق ہیں۔
اس بیان سے پہلے امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان ٹوم کےسی نے کہا تھا کہ صدر احمدی نژاد جب اگلے ہفتے بھارت کے دورے پر جائیں تو امریکہ کو بہت خوشی ہوگی کہ بھارت ان سے کہے کہ ایران اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قراردوں پر عمل درآمد کرتے ہوئے اپنے جوہری پروگرام میں تخفیف کر دے۔
انڈیا اور ایران کے تعلقات میں اس وقت سرد مہری آ گئی تھی جب انڈیا نے انٹرنیشنل اٹامک انرجی میں ایران کے خلاف ووٹ ڈالا تھا۔
انڈیا کی کوشش ہو گئی کہ وہ ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو پھر بہتری کی طرف لے جائے اور گیس پائپ لائن کا منصوبہ شروع ہو سکے۔