Saturday, 19 April, 2008, 12:29 GMT 17:29 PST
ریاض مسرور
بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر
ہندوستانے کے زیرانتظام کشمیر کے سرکاری میوزیم سے تہذیبی نوادرات، قدیم قلمی نسخوں اور صوفی بزرگوں کے تبرکات کی ’چوری‘ کا انکشاف ہونے پرمقامی طلبا نے احتجاجاً پانچ محکموں کے خلاف عدالت عالیہ میں عرضی دائر کردی ہے۔
مفاد عامہ کے تحت دائر اس عرضی میں حکومت ہند کے محکہ آثار قدیمہ اور تہذیب و ثقافت سے متعلق مقامی محکموں کو ’ کشمیریوں کی شناخت مٹانے‘ کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔
طلبا تنظیم کشمیر یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین (کُوسُو) نے اس حوالے سے جموں کشمیر ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو باقاعدہ عرضی پیش کی ہے۔
کُوسُو کے صدر ثاقب قادری نے بی بی سی کو بتایا ’ہماری شناخت آہستہ آہستہ ختم کی جارہی ہے، اس لیے ہم عوام کو موبلائز کرینگے۔
عجیب بات ہے کہ حکومت نے ہمارے بیانات کا نوٹس نہیں لیا۔لیکن ہمیں امید ہے کہ عدالت ہماری عرضی کو نہیں ٹُھکرائے گی۔‘
|
|
کُوسُو کے بعض عہدیداروں کا کہنا ہے کہ عدالت سے انصاف نہ ملا تو وہ کشمیر میں احتجاجی تحریک چھیڑ دینگے، جس کے تحت عوام کے سنجیدہ حلقوں کو ’ اپنی کھوئی ہوئی میراث ‘ کی حفاظت کے لیے بیدار کیا جائے گا۔
صحافی اور ثقافتی امور کے تبصرہ نگار طارق علی میر گو کہ طلبا کی طرف سے بیداری مہم کو ’خوش آئیندہ‘ سمجھتے ہیں، تاہم انہیں ’ انصاف ‘ کی بہت کم امید ہے۔
بی بی سی کے ساتھ مختصر بات چیت کے دوران انہوں نے بتایا ’ ہمارے یہاں ہزاروں بے نام قبروں کا انکشاف ہوتا ہے، فرضی جھڑپوں کا انکشاف ہوتا ہے اور بھی بہت سی باتیں سامنے آتی ہیں۔ آپ نے آج تک کسی معاملے میں انصاف ہوتے دیکھا؟ ‘
مسٹر طارق کا کہنا ہے کہ پچھلے چند سال کے دوران حکومت نے میوزیم سے ’ایک سازش‘ کے تحت چرائے جانے والے نوادرات اور مخطوطات کے بارے میں عوامی شکایات کو نظرانداز کیا۔
انہوں نے مزید بتایا ’میوزیم سے چار سو سال قبل مغل شہنشاہ اورنگ زیب کے ہاتھوں لِکھا قرآن کا نادر نسخہ، کشمیر کے صوفی بزرگ شیخ
نورالدین کی شبیہ والے چاندی کے سکے اور ان کا خرقہ اور مسلم اقتدار کے سنہرے سکّے غائب ہیں۔ یہاں تک کہ مسلم دور کے چھہتر سکّے
جن میں نو سونے اور باقی چاندی کے ہیں، بھی پراسرار طور پر غائب ہیں۔ لگتا ہے کہ ہماری پہچان کو ہی مسخ کیا جارہا ہے۔‘
![]() |
|
| طارق علی میر گو کہ طلبا کی طرف سے بیداری مہم کو ’خوش آئیندہ‘ سمجھتے ہیں، تاہم انہیں ’ انصاف ‘ کی بہت کم امید ہے |
بارہویں جماعت کے طالب علم سید مدثر نے بتایا کہ انہیں یہ سن کر تعجب ہوا کہ دُنیا کی ہیریٹیج فہرست میں کشمیر کا نام و نشان ہی نہیں۔
مدثر کہتے ہیں ’اگر ہر لمحہ کہا جاتا ہے کہ کشمیر دنیا کی سب سے خوبصورت جگہ ہے، تو پھر یہاں کے آثار کو پروجیکٹ کیوں نہیں کیا جاتا؟ یہ تو تعصب ہے۔‘
طارق علی میر بھی طلبا کے ان تائثرات سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ عوام باالآخر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے پر مجبور ہوگئے۔
مسٹر طارق کے مطابق ’سرینگر کے مشرق میں واقع مغل باغات کے عقب میں برزہامہ کے مقام پر پانچ ہزار سال قبل انسانی آبادی کے آثار آج سے پچاس سال قبل برآمد ہوئے تھے۔ سن اُنیس سو چونسٹھ میں حکومت ہند کے آرکیولاجکل سروے آف انڈیا کے اہلکار ان آثار کو جانچ کے لیے یہاں سے دلّی لے گئے، تب سے اس جانچ رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں۔‘
دریں اثنا پائین شہر میں سلطان شہاب الدین کی قبر کی بے حُرمتی اور کشمیر کے فارسی شاعر مُلا طاہر غنی کشمیری کی ساڑھے چار سو سالہ رہائش گاہ کے انہدام پر بھی طلبا اور حساس عوامی حلقوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔