Saturday, 12 April, 2008, 11:21 GMT 16:21 PST
ریاض مسرور
بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر
سال دو ہزار آٹھ ہندوستان کے زیرانتطام کشمیر میں سرگرم ہندنواز اور ہندمخالف سیاسی گروہوں کے لیے چیلنج کا سال سمجھا جارہا ہے۔
اسی سال ریاستی قانون سازیہ کے لیے انتخابات ہو نے والے ہیں اور یہ پچھلے بیس سالہ عرصہ میں پہلی مرتبہ ہے کہ مختلف مکاتب فکر کے سیاسی لیڈروں نے جن اہداف کو کشمیر میں امن و خوشحالی کے لیے ضروری قرار دیا ہے انہیں یہ اہداف حاصل کر دکھانے کے مشکل چیلنج کا سامنا ہے۔
علیٰحدگی پسندوں میں سے سخت گیر مؤقف رکھنے والے سید علی گیلانی ناموافق حالات کے باوجود اس بات پر ڈٹے ہیں کہ انتخابات میں حصہ لینا ’شہیدوں کی قربانیوں کا سودا‘ کرنے کے مترادف ہے، لہٰذا اکتوبر کے مہینے میں ہونے والے انتخابات کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے۔
ایک ایسے وقت میں جب پاکستانی حکومت اور اس کے زیرانتظام کشمیر میں مقیم کشمیریوں کی مسلح قیادت الیکشن کے حوالے سے نرم روی کا
مظاہرہ کر رہے ہیں ،گیلانی کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ وہ لوگوں کو پولینگ بوتھ سے کیسے دُور رکھ پائینگے۔
![]() |
|
| علی شاہ گیلانی اس بات پر ڈٹے ہیں کہ انتخابات میں حصہ لینا ’شہیدوں کی قربانیوں کا سودا‘ کرنے کے مترادف ہے، |
میرواعظ گروپ نے الیکشن کے بارے میں گیلانی سے مختلف لائن اختیار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ الیکشن، مالی پیکیج یا سبسڈی سے مسئلہ کشمیر کی حقانیت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
سال کے آخر میں ہونے والی ایک بڑی سیاسی تبدیلی کو’غیر اہم‘ ثابت کرکے لوگوں کو باور کرانا کہ الیکشن سے کوئی فرق نہیں پڑا، میرواعظ کے لیے بڑی آزمائش ہے۔
میرواعظ اور گیلانی کے دھڑوں سے باہر انفرادی طور سرگرم لبریشن فرنٹ کے رہنما محمد یٰسین ملک نے امن عمل کی حمایت کی ہے، لیکن
وہ کہتے ہیں کہ امن تب تک نہیں آئے گا جب تک امن عمل میں کشمیریوں کو شامل نہ کیا جائے۔
![]() |
|
| محمد یٰسین ملک نے امن عمل کی حمایت کی ہے |
مسٹر ملک نے ہندوستان اور پاکستان کے وزرائے اعظم کے علاوہ صدر مشرف سے بھی ملاقات کی ہے۔ ان کے لیے چیلنج یہ ہے کہ وہ ہند-وپاک مذاکرات میں کشمیریوں کے لیے ’خصوصی نشت‘ کیسے محفوظ کروائیں۔
اسی طرح متعدد سابقہ جنگجو کمانڈروں نے بھی ایک بڑا کام دردست لیا ہے۔
پچھلے دو ہفتوں کے دوران سابق جنگجو کمانڈروں پر مشتمل نصف درجن تنظیمیں وجود میں آئیں۔ ان میں دو طرح کے گروپ ہیں۔ بعض نے الیکشن میں حصلہ لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے یہ عزم کیا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کی خاطر’ اسمبلی کے اندر جدوجہد کرینگے‘ ۔
سیدعلی گیلانی اور مقتول عبدالغنی لون ڈیڑھ دہائی تک اسمبلی میں رہے ہیں، لیکن مسئلہ حل نہیں ہوا۔ کیا مسلح جدوجہد سے کنارہ کش ہونے والے جنگجو کمانڈر یہ کام انجام دے پائینگے؟ یہ ان کا سب سے بڑا چیلنج ہوگا۔
حکمراں اتحاد کی دو اہم اکائیوں کانگریس اور پی ڈی پی کو بھی اُن فارمولوں کو عملانے کا چیلنج درپیش ہے، جنہیں وہ کشمیر میں امن
و استحکام کے لیے ضروری قرار دیتے آئے ہیں۔
![]() |
|
| غلام نبی آزاد نے عہدہ سنبھالنے کے بعد ریاست سے رشوت خوری کی وبا اور تشدد کو ختم کا اعلان کیا تھا |
انہوں نے اپنے اقتدار کے قریب اڑھائی سال بعداب یہ اعلان کیا ہے کہ اگر وہ رشوت خوروں کا دفتر کھولینگے تو’ آدھا جموں کشمیر جیل جائے گا‘ ۔
انتخابات سے چند ماہ قبل اس اعلان نے کشمیر میں خوشحالی لانے کے ان کے چیلنج کو مزید دشوار بنا دیا ہے۔ کیونکہ الیکشن سے قبل انہیں رشوت کے خلاف جنگ جیت کر دکھانا ہوگی، اور پھر ریاست کی نصف آبادی کو جیل بھیجنا ایک غیر معمولی ہدف ہے۔
ہندوستان کے پہلے مسلم وزیرداخلہ اور ریاست کے سابق وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید کی پارٹی پی ڈی پی نے خودحکمرانی کے اپنے فلسفہ کو کوئی دستاویزی شکل نہیں دی ہے، لیکن پارٹی صدر اور سعید کی بیٹی محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ ان کے مؤقف کو نہ صرف کشمیر میں بھاری عوامی حمایت حاصل ہے بلکہ پاکستان کی نئی قیادت نے بھی ان کے مؤقف سے اتفاق کیا ہے۔
پی ڈی پی کو اب مجوزہ انتخابات کے دوران یہ ثابت کرنا ہوگا کہ واقعی ان کا فارمولہ عوام کو قبول ہے۔
![]() |
|
| مفتی محمد سعید کی پارٹی پی ڈی پی نے خودحکمرانی کے اپنے فلسفہ کو کوئی دستاویزی شکل نہیں دی ہے |
عمر عبداللہ اعلان کرچکے ہیں کہ ان کے خودمختاری ماڈل سے بہتر کوئی متبادل حل قابل عمل ثابت ہوجاتاہے تو وہ اُسے قبول کرینگے۔ یہ کہہ کر عمر نے اٹانومی حاصل کرنے کے چیلنج کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ اب انہیں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اٹانومی کے سِوا مسئلہ کشمیر کا کوئی بھی حل موجود نہیں۔
عوامی حلقے نہایت دلچسپی کے ساتھ منتظر ہیں کہ یہ سبھی سیاسی گروپ کس طرح اُن اہداف کو حاصل کرینگے جنہیں وہ اپنے لیے مقرر کرچکے ہیں۔