Friday, 11 April, 2008, 07:50 GMT 12:50 PST
ہندوستان میں ریکارڈ توڑ مہنگائی کا سلسلہ جاری ہے اور نوبت یہ آ گئی ہے کہ افراطِ زر کی شرح 7.41 تک پہنچ گئی ہے۔
یہ جانکاری سرکار کی جانب سے جمعہ کو جاری کیے گئے تازہ اعدادوشمار سے حاصل ہوئی ہے۔
29 مارچ کو ختم ہونے والے ہفتے میں مہنگائی کی شرح 7.41 درج کی گئی۔ اس پہلے ہفتے میں یہ شرح سات فیصد تھی۔
تازہ اعدادوشمار کے مطابق سبزیوں کی قیمتوں میں چار فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ دالوں کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ درج کیا گیا ہے۔ لیکن تیل کی قیمتوں میں گراوٹ درج کی گئی ہے۔
حال ہی میں حکومت نے مہنگائی پر قابو پانے کے لیے کئي اعلانات کیے تھے جس میں غیر باسمتی چاول کی برآمدات پر پابندی عائد کرنے کے علاوہ ریفائنڈ تیل۔ مکھن، اور گھی جیسی اشیاء پر امپورٹ ڈیوٹی کم کر دی گئی تھی۔
لیکن ان اعلانات کے باوجود مہنگائی کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔
جمعہ کو حکومت بیرونی تجارت کی پالیسی سے متعلق بعض اعلانات کرنے والی ہے اور یہ بھی امید کی جا رہی ہے کہ اس موقع پر مہنگائی پر قابو پانے سے متعلق بھی بعض اعلانات کیے جا سکتے ہیں۔
بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی ریکارڈ توڑ قیمتیں بھی مہنگائی بڑھنے کی ایک وجہ ہے۔
خام تیل فی الوقت 112 ڈالر فی بیرل فروخت کیا جا رہا ہے۔ اس کا اثر ہندوستان پر اس لیے بھی پڑے گا کیوں بھارت اپنی ضرورت کا 70 فیصد تیل درآمد کرتا ہے۔