Thursday, 03 April, 2008, 16:16 GMT 21:16 PST
شکیل اختر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
ہندوستان کی حکومت نے ایک بار پھر چین کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ’تبت کے خود مختار علاقے کو چین کا حصہ‘ تسلیم کرتا ہے۔
تبت میں حالیہ بے چینی کے دوران تبت کے دارالحکومت لہاسہ میں ہی نہیں ہندوستان میں دلی اور تبتی پناہ گزینوں کے شہر دھرم شالہ میں بھی چین کے تسلط کے خلاف شدید احتجاج ہوا ہے۔
یہی نہیں گذشتہ ہفتے چینی حکام امریکہ، برطانیہ، فرانس، اٹلی اور نیپال سمیت کم از کم پندرہ ملکوں کے سفیروں کو تبت کی صورت حال دکھانے کے لیے لہاسہ لے گئے۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ ہندوستان کی سفیر کو لہاسہ کے اس دورے کی دعوت نہيں دی گئی۔
گزشتہ مہینے وسط میں جب تبتی باشندوں نے چینی تسلط کے خلاف احتجاج شروع کیا اس وقت سے ہندوستان اور چین کے تعلقات میں تلخی بڑھتی گئی ہے۔ ہمیشہ کی طرح ہندوستان کی کوشش رہی ہے کہ وہ کسی طرح چین کو ناراض نہ کرے۔
چین اولمپک کے لیے اولمپکس مشعل تقریباً دو ہفتے بعد ہندوستان سے گزرنے والی ہے۔ قومی سلامی کے مشیر ایم کے نارائن نے چین کی وزرات خارجہ کے ایک اعلی اہلکار کو یقین دلایا ہے کہ تبتی پناہ گزينوں کو ہندوستان میں چین مخالف سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
وزیر خارجہ پرنب مکھرجی نے ایک طرف تو دلائی لامہ کو صرف مذہبی اور روحانی پیشوا قرار دیا تو دوسری جانب دارالحکومت دلی میں انہیں تبت کے سیاسی سوال پر پریس کانفرنس کی اجازت دی۔
حزب اختلاف بھارتیہ جنتا پارٹی سمیت ہندوستان میں سیاسی حلقوں میں یہ تاثر گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ ہندوستان چین کے سامنے مسلسل جھکتا جا رہا ہے اور تبت کے سلسلے میں اس کا موقف صحیح نہیں ہے۔
ہندوستان نے اولمپک مشعل کی ریلی کو ایک پر امن واقعہ بنانے کے لیے اپنی پوری طاقت لگا دی ہے۔
|
چین کا امتحان
|
تبتی پناہ گزينوں پر سخت نظر رکھی جا رہی ہے اور آنے والے دنوں میں ان کی نقل و حرکت پر بھی عبوری پابندیاں لگ سکتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ چین ان اقدامات سے خوش ہوگا۔
لیکن اسی دوران ہندوستان کے وزیر دفاع اے کے اینٹونی اروناچل پردیش کے توانگ سرحدی خطے کا دورہ کرنے جا رہے ہیں۔ اس خطے پر چین کا دعوی ہے۔ گزشتہ مہینے جب وزیراعظم نے اروناچل کا دورہ کیا تھا تو چین نے احتجاج کیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق اینٹونی توانگ میں ایک رات سرحد پر تعینات فوجیوں کے ساتھ گزاریں گے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ہندوستان تبت کے معاملے میں چین کی مکمل حمایت کرکے اب دیکھنا چاہتا ہے کہ توانگ میں وزیر دفاع کے دورے پر چین کس طرح کا رد عمل ظاہر کرتاہے۔