Thursday, 03 April, 2008, 12:07 GMT 17:07 PST
ہندوستان نے کہا ہے دلائی لامہ صرف ایک مذہبی اور روحانی پیشوا ہیں اور اور کسی بھی تبتی کو ملک میں چین مخالف مظاہرے کرنے کی اجازت نہيں دی جائے گی ۔
یہ بات وزیر خارجہ پرنب مکھرجی نے چین کے وزیر خارجہ یانگ ژیاچی سے بدھ کی رات ٹیلی فون پر بات چیت میں کہہی ہے۔
وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق بات چیت میں وزیر خارجہ پرنب مکھر جی نے اس موقف کا اعادہ کیا کہ ہندوستان تبت کو چین کا حصہ تسلیم کرتا ہے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہندوستان کی حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ ملک میں اولمپک کی مشعل کی ریلے پوری طرح کامیاب رہے۔ دونوں وزراء خارجہ کی فون پر بات چیت کے دوران چین کے وزیر خارجہ نے تبت میں حالیہ تشدد کے واقعات پر ہندوستان کے موقف اور تبت کے معاملے پر ہندوستان میں چین مخالف مظاہروں سے نمٹنے کے لیے ہندوستان کی ستائش کی۔
ادھر خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق حکومت نے دارلحکومت دلی میں میں اولمپک مشعل کے روٹ کو تبتیوں کی جانب سے مظاہروں کے خدشے کے سبب کم کر دیا ہے۔ انڈین اولمپک اسوسیشن کے سکریٹری جنرل رندھیر سنگھ نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا’ جس راستے سے مشعل گزرے گی اس راستے کو چھوٹا کر دیا گیا ہے اور جلد ہی اس کی تفصیلات جاری کر دی جائيں گی‘۔
ہندوستان میں اولمپک کی مشعل آئندہ سترہ اپریل کو پہنچے گی اور اس ریلے میں بالی ووڈ اداکار عامر خان ، سیف علی خان سمیت سابق اعلی پولیس اہلکار کرن بیدی کے حصہ لینے کی امید ہے۔