Wednesday, 02 April, 2008, 18:40 GMT 23:40 PST
ریاض مسرور
بی بی سی اردو ڈاٹ، سری نگر
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے بعض شمالی دیہات میں کئی مقامات پر گمنام قبروں کی دریافت کے بعد مقامی رضاکاروں نے سرکاری اہلکاروں کی جانب سے ہراساں کیے جانے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
کچہامہ تین ہزار نفوس پر مشتمل بارہ مولہ کا بالائی مگر زرخیز گاؤں ہے، جہاں حقوق انسانی کی ایک مقامی تنظیم نے گزشتہ دنوں دو
سو سے زیادہ گمنام قبروں کی موجودگی کا دعویٰ کیا تھا۔
میر نے بی بی سی کو بتایا: ’ہم لوگ ان قبروں میں دفن بے نام افراد کی شناخت چاہتے ہیں، اسی لئے ہم یہاں آنے والے رضاکاروں یا صحافیوں کو معلومات فراہم کرتے ہیں۔ لیکن مجھے خدشہ ہے کہ مجھے گرفتار بھی کرسکتے ہیں۔‘
اس نمائندے کے ساتھ جب وہ فتح گڑھ کی ایک پہاڑی پر واقع چند بے نام قبروں کی نشاندہی کررہے تھے، مقامی پولیس کے خفیہ شعبہ کے بعض اہلکار وہاں آن پہنچے۔
ان کا کہنا ہے: ’اب ایسی لاشوں کو فوج کے نزدیکی کیمپ کے اسلحہ خانے کے قریب دفنایا جاتا ہے، جہاں کسی کو جانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔‘
حاجی محمد یوسف نے بتایا کہ کچہامہ کے ارشاد احمد اور زونی یار گاؤں کے نذیر احمد میر پچھلے سولہ سال سے لاپتہ ہیں۔
ان کا کہنا ہے: ’ہم لوگ اپنوں کی جدائی کا غم سمجھتے ہیں، اسی لئے جب پولیس یا فوج کسی بے نام لاش کو ہمارے سپرد کرتی ہے، ہم اس کی تلاشی لیتے ہیں اور فوٹو کھیچتے ہیں۔ ایک دن تو ایک افغان جنگجو کی جیب سے گرینیڈ برآمد ہوا جو ہم نے دوسرے دن پولیس کے حوالے کر دیا۔‘
یہ پوچھنے پر کہ کیا ساری بے نام لاشیں غیر کشمیری جنگجوؤں کی تھیں حاجی یوسف نے بتایا: ’میں نے چیچنیا اور سوڈان کے جنگجوؤں کو بھی اس قبرستان میں دفنایا۔ لیکن زیادہ تر نوجوان کشمیری تھے جنہیں افغان یا پاکستانی کہہ کر ہمیں سونپا جاتا تھا۔ افغان یا پاکستانی ملی ٹینٹ مارنے کے لئے زیادہ پیسے ملتے ہیں اسی لئے سب کو یہی لیبل لگایا جاتا ہے۔‘
حاجی یوسف کہتے ہیں کہ وہ ایسی لاشوں کی باقاعدہ تدفین کے علاوہ ان کے حق میں تعزیتی اور دعائیہ مجالس کا بھی اہتمام کرتے تھے: ’لیکن اب ایسا ناممکن ہے کیونکہ فوج اور پولیس یہ ناگوارہ ہے۔‘