Friday, 28 March, 2008, 14:30 GMT 19:30 PST
صلاح الدین
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
ہندوستان میں اشیائےخوردونوش کی قیمتیں بڑھنے سے افراط زر کی شرح میں گزشتہ ایک برس کے مقابلے میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔
بھارت میں گزشتہ ایک ہفتے میں اناج، سبزیوں پھلوں اور بعض دواؤں کی قیمتیں تقریبا دوگنی ہوگئی ہیں۔
ماہر اقتصادیات انشومن تیواری کہتے ہیں کہ ایک طبقے کے پاس پیسہ خوب آ گیا ہے لیکن بازار میں ضروری اشیاء کی قلت ہے۔’مہنگائی کی ایک اہم وجہ زرعی پیداوار میں کمی ہے، دوسری وجہ عالمی بازار میں مہنگائی ہے، ایک طبقے کے پاس پیسہ خوب آ گیا ہے لیکن بازار میں ضروری اشیا کی قلت ہے اس لیے قیمتیں بڑھنا لازمی ہے‘۔
ان کا کہنا ہے کہ ضروری اشیاء کی قیمتیں بڑھنا حکومت کے لیے بھی درد سر ہے لیکن وہ ایکسائز ڈیوٹی کم کرنے کے سوا کر بھی کیا سکتی ہے۔ بقول ان کے چند ماہ بعد قیمتیں اور بڑھیں گی۔’ گرمی جلدی شروع ہوگئی اس لیے فصل اچھی نہیں ہوئی اور کم بارش کے سبب اگلی فصل کے بھی اچھی ہونی کی امید نہیں ہے، عالمی بازار میں تیل کی قیمت بہت زیادہ ہے گرمی میں دودھ کی قلت عام ہے تو آنے والے دنوں میں مہنگائی کی مار اور جھیلنی پڑ سکتی ہے‘۔
اس وقت شمالی ہندوستان میں سرسوں کی فصل تیار ہوئی ہے لیکن پھر بھی تیل کی قیمت میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ دال ستر روپے کلو تک اور سبزیاں پینتیس سے چالیس روپے میں بک رہی ہیں جبکہ پھلوں کی قیمتیں بھی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہیں۔ بعض دواؤں کی قیمتوں میں بھی دوگنا اضافہ ہوا ہے۔
ہندوستان میں اس برس ضروری اشیاء کی قیمتیں کئی بار بڑھی ہیں جسے کم کرنے کے لیے حکومت نے بعض سخت اقدامات بھی کیے تھے لیکن اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی وقتی چارہ جوئی سے کوئی خاص فرق نہیں پڑےگا۔
ماہرین کے مطابق کھیتی کی اچھی پیداوار یا عالمی بازار میں قیمتوں کے گرنے سے ہندوستان کی کچھ مشکلیں کم ہوسکتی ہیں لیکن مستقبل قریب میں یہ دونوں ہی صورتیں نظر نہیں آتیں اس لیے آنے والے دن غریبوں کے لیے آسان نہیں ہوں گے۔