Tuesday, 25 March, 2008, 11:08 GMT 16:08 PST
شکیل اختر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
ہندوستان کی سپریم کورٹ نے گجرات فسادات کے دس اہم واقعات کی تفتیش کے جائزے اور مزید تفتیش کے لیے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دینے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ یہ ٹیم اپنی رپورٹ تین مہینے کے اندر پیش کرے گی۔
اس پانچ رکنی خصوصی ٹیم میں گجرات کے تین اعلیٰ پولیس افسران گیتا جوہری، شیوانند جھا اور آشیش بھاٹیہ اور سی بی آئی کے ایک سبکدوش سربراہ آر کے راگھون اورریاستی پولیس کے سابق سربراہ سی بی شتپھی شامل کیے گیے ہيں۔
سپریم کورٹ کی ایک تین رکنی بینچ نے خصوصی ٹیم کی تشکیل کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اس کے بارے میں مزید احکامات بدھ کو جاری کیے جائیں گے۔
عدالت عظمی نے یہ فیصلہ حقوق انسانی کے قومی کمیشن کی اس درخواست کی سماعت کے دوران دیا جس میں یہ گزارش کی گئی تھی کہ گواہوں کی زندگی کو خطرات اور مسلسل دھمکیوں کے سبب گجرات فسادات کے اہم معاملات کا مقدمہ ریاست سے باہر منتقل کردیا جائے اور ان واقعات کی تفتیش سی بی ائی جسے کسی آزاد ادارے سے کرائي جائے۔
سپرریم کورٹ نے 2003 میں ان معاملات کی گجرات میں سماعت روک دی تھی۔ گجرات میں فروری 2002 میں گودھرا میں سابرمتی ٹرین کے ایک ڈبے پر مبینہ طور پر مسلمانوں کے ایک ہجوم نے آگ لگادی تھی جس میں 60 سے زیادہ ہندو کارسیوک ہلاک ہوگئے تھے۔
اس واقعہ کے بعد پوری ریاست میں مسلمانوں کے خالف فسادات پھوٹ پڑے تھے، جن میں ڈیرھ ہزار سے زیادہ مسلم مارے گئے تھے۔ لیکن بعد میں ان میں ایک دو واقعات کو چھوڑ کر بیشتر واقعات میں قصورواروں کو کوئی سزا نہيں مل سکی۔
ریاست کے مسلم متاثرین اور حقوق انسانی کی تنظمیں گجرات کی حکومت پر تفریق برتنے کا الزام لگاتی رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فسادیوں کو انتظامیہ کی پشت پناہی حاصل رہی تھی۔ اور وہ دانستہ طور پر ان کے خلاف کچھ نہیں کررہی ہے۔
سپریم کورٹ کی مداخلت سے بعض اہم کیسز ریاست سے باہر منتقل کیے جا چکے ہيں اور بعض میں عدالت سے قصورواروں کو سزا بھی مل چکی ہے۔