Sunday, 16 March, 2008, 11:40 GMT 16:40 PST
شکیل اختر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
انتخابات کی تیاریاں
اس برس دلی، مہاراشٹر، کرناٹک، راجستھان، اور مدھیہ پردیش سمیت کئی ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہيں۔ آئندہ برس پارلیمنٹ کے انتخابات ہونے والے ہيں۔ جس طرح کے حالات ہيں ایسا لگتا ہے کہ پارلیمانی انتخابات جلد ہی ہونے والے ہیں۔
منموہن سنگھ کی حکومت کافی پریشان ہے۔ یہ انتخابی برس ہے لیکن تمام کوششوں کے باوجود مہنگائی قابو میں نہيں آرہی ہے۔
اطلاعات ہیں کہ حکومت کسانوں کے ساٹھ ہزار کروڑ روپیے معاف کرنے کے بعد اب کپڑے کی صنعت سے منسلک بنکروں کے قرض معاف کرنے کا موڈ بنارہی ہے۔ حکومت سرکاری ملازمین کو خوش کرنے کے لیے بھی اس ہفتے کسی بھی وقت تنخواہوں میں تقریبا بائیس فیصد اضافے کا اعلان کرے گی۔
مسلمانوں کے زخم بھر گیے
![]() |
|
| گجرات فسادات کے دوران تقریبا دو ہزار مسلمان مار گئے تھے |
انہوں نے کہا کہ وہ مسلمانوں کے زخم بھرنے کے لیے کچھ نہیں کر سکتے جو بار بار فسادات کا ذکر کر کے زخموں کو تازہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دوسرے مذہب کے احترام کے لیے گوشت مت کھائیے
![]() |
|
| نریندر مودی گجرات 2002 فسادات کے لیے مورد الزام ٹھرائے جاتے ہیں |
گجرات حکومت نے جین مذہب کے پریوشن تہوار کے دوران نو دنوں کے لیے مذبخ خانوں میں جانوروں کے ذبیح پر یہ کہہ کر پابندی لگادی تھی کہ اس کا مقصد جین مذہب کے تیئں احترام کا اظہار کرنا ہے۔
لیکن گوشت فرختوں کی ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے کاروبار کرنے کے ان کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہوئی ہے اور انہيں مالی نقصان پہنچے گا۔
عدالت کا کہنا ہے تھا کہ ہندوستان ایک کثیر ثقافتی ملک ہے اور اس طرح کا قدم جائز ہے۔
جین مذہب کے پیروکار گوشت نہیں کھاتے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد دوسری ریاستیں بھی مختلف مذہبی تہواروں کے نام پر گوشت کی فروخت پر پابندیاں عائد کرنے کی کوشش کر سکتی ہیں۔
کامن ویلتھ گیمز سے دلی کا فائدہ
![]() |
|
| سنہ 2010 میں دلی میں کامن ویلتھ گیمز ہونے والے ہیں |
گیمز سے پہلے دارالحکومت دلی کی سڑکیں بین لااقوامی میعار کی بنائي جائیں گی۔سڑکوں پر روشنی کا بہتر انتظام ہوگا۔ بجلی اور پانی کی سپلائی کے لیے نئے نئے انتظامات کیے جارہے ہیں۔
شہر کی بہتر امیج دکھانے کے لیے دارالحکومت سے ہزاروں بھکاریوں کو یہاں سے ہٹا دیا جائے گا۔
میونسپل کارپوریشن شہر کو صاف رکھنے کے لیے ایک نیا ضابطہ نافذ کرنے جارہی ہے جس کے تحت گندگی پھیلانے، تھوکنے، سڑک کے کنارے پیشاب کرنے، گھرکے باہر برتن کپڑے دھونے پر موقع پر ہی دو سو روپیے کا جرمانہ کیا جائے گا۔
باہر نہانے، پاخانہ کرنے پر سو روپیے اور پالتو جانوروں کی گندگی پر پانچ سو روپیے کا جرمانہ ہوگا۔ کارپوریشن اس ضابطے کے نفاذ کے لیے سینکڑوں افسروں کو تعینات کرنے والی ہے۔
اڈوانی کی کتاب میں دلچسپ حقائق
![]() |
|
| بی جے پی کے سنیئر لیڈر ایل کے اڈوانی ایک سخت گیر ہندو رہنما تصور کیے جاتے ہيں |
اس سوانحی کتاب میں اڈوانی نے واجپئی سے اپنے تعلقات، بی جے پی کی حکومت کے ایام، کرگل کی لڑائي، پارلیمنٹ پر حملے اور محمد علی جناح کو سیکولر کہنے کے تنازعہ کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔
ایل کے اڈوانی آئندہ پارلیمانی انتخابات میں متحدہ حزب اختلاف کے وزارت عظٰمی کے امیدوار ہیں اور باور کیا جاتا ہے کہ یہ کتاب انہوں نے اپنی شبیہ بہتر کرنے کے لیے لکھی ہے۔