Saturday, 08 March, 2008, 10:13 GMT 15:13 PST
ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں سرکاری اہلکاروں نے سرینگر میں سڑکوں پر آوارہ کتوں کو زہر دے کر مارنے کی مہم فی الوقت پابندی لگا دی ہے۔
اہلکاروں نے یہ قدم اس وقت اٹھایا ہے جب جانوروں کے تحفظ کے لیے کام کرنے کی تنظیموں نے اس بے رحم اقدام کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھانے کی دھمکی دی تھی۔
مہم کے تحت سری نگر میں اب تک پانچ سو کتّوں کو زہر دے کر مارا جا چکا ہے لیکن شہر کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اب وہ جانوروں کی کمیکل کے ذریعے نسبندی کريں گے۔
اس مہم کی شروعات دراصل کتوں سے پھیلنے والی ریبیز کی بیماری کے خطرے کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے کی گئی تھی۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق شہر کے صحت کے اہلکار ڈاکٹر ریاض احمد کا کہنا ہے’ کتّے ایک بڑا مسئلہ بن چکے ہیں اور یہ انسانوں کے لیے بھی خطرہ بن گئے ہیں‘۔
جانوروں کے تحفظات کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ ایک بے رحم قدم ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہر کتّے میں ریبیز بمیاری کا وائرس نہیں پایا جاتا ہے ۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کّتوں کو یوں زہر دے کر مارناغیر قانونی ہے اور اس معاملے میں وہ عدالت کا بھی رخ کر سکتے ہیں۔
اس دھمکی کے بعد جمعہ کو اس مہم کو روکنے کا فیصلہ کیا گیا۔
مینوسپل کارپوریشن نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا’ ہم اب کتّوں کو زہر دے کر نہیں ماریں گے‘۔
ریبیز ہندوستان کے کئی شہروں میں ایک عام بیماری ہے جو تیزی سے پھیل رہی ہے۔
پوری دنیا میں ہر سال تقریبا 55000 اموات ریبیز کی وجہ سے ہوتی ہیں اور ہندوستان میں پوری دنیا میں ریبیز سے ہونے والی اموات کی تعداد عالمی تعداد کی آدھی ہے۔