Wednesday, 27 February, 2008, 15:55 GMT 20:55 PST
ہندوستان اور پاکستان نے اپنی جیلوں میں قید ایک دوسرے کے شہریوں کی مکمل فہرست مارچ کے اختتام تک تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دونوں ملکوں میں قیدیوں کے ساتھ انسانی برتاؤ کرنے اور ان کی جلد رہائی کے لیے اقدامات کی سفارش کرنے کی غرض سے ہند۔پاک مشترکہ عدالتی کمیٹی نے دلی میں اپنے اجلاس کے بعد دونوں حکومتوں سے کہا ہے کہ وہ اپنی جیلوں میں قیدیوں کی مکمل تفصلات اور موجودہ حالت کی مکمل فہرست تیار کریں۔
اس فہرست کا تبادلہ 31 مارچ تک ہونا ہے۔ کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ ان قیدیوں کی رہائی کا انتظام کیا جائے جن کی شہریت کی تصدیق ہو چکی ہے اور جو سزاؤں کی مدت پوری کر چکے ہیں۔
میٹنگ کے بعد وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ایک مشترکہ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ خواتین اور معذور قیدیوں کے سلسلے ميں خاص طور سے ہمدردی کے جذبے سے کام لیا جائے اور انہیں جلد واپس بھیجا جائے۔ بیان کے مطابق دونوں حکومتوں سے کہا گیا ہے کہ جن ماہی گیروں کی قومیت کی تصدیق ہو چکی ہے انہیں فورا رہا کیا جائے۔
یہ مشترکہ عدالتی کمیٹی دونوں ممالک کی خارجی اومور کی وزارت نے تقریبا ایک برس قبل تشکیل دی تھی، اس میں دونوں جانب سے چار چار سبکدوش جج شامل کیے گئے تھے۔
ہندوستان اور پاکستان کی جیلوں میں آج بھی سرحد کی خلاف ورزي اور بھٹک کر ایک دوسرے کے یہاں پہنچ جانے سے لے کر سزا کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی واپس نہ جانے اور دہشتگردی کے الزامات میں سینکڑوں افراد قید میں ہیں۔
ان میں بہت بڑی تعداد ان قیدیوں کی ہے جو سفارتی رسائی نہ ہونے اور دیگر تکنیکی وجوہات سے اپنی سزا ختم ہونے کے برسوں بعد بھی قید میں ہیں۔حالیہ برسوں میں ان کی رہائی کے لیے بات چیت ہوئی ہے لیکن ابھی تک ان کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔