http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 03 February, 2008, 06:44 GMT 11:44 PST

شکیل اختر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

ایڈوانی،مودی نشانے پر اور دفتر میں رومانس

ایڈوانی، مودی دہشت گردوں کے نشانے پر
گزشتہ دنوں انٹیلی جنس بیورو نے اطلاع دی کہ حزب اختلاف کے رہنما ایل کے اڈوانی اورگجرات کے وزیراعلی نریندر مودی کو دہشتگردوں کی طرف سے خطرہ ہے۔ انٹیلی جنس بیورو کے ذرائع سے یہ خبر شائع ہوئی کہ آئی ایس آئی نے داؤد ابراہیم کو ان دونوں رہنماؤں کو ہلاک کروانے کا کام سونپا ہے۔خطروں کی اطلاعات کے بعد ان دونوں رہنماؤں کے حفاظتی انتظامات پر نظر ثانی کی گئی ہے۔ انہیں پہلے ہی سخت ترین حفاظتی نظام یعنی’ زیڈ‘ زمرے میں رکھا گیا ہے ۔

ایک دیگر رپورٹ میں انٹیلی جنس کے حوالے سے بتایا گیا ہے مودی کو اپنی ذاتی ای میل پر جان سے مارنے کی دھمکی موصول ہوئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ای میل میں دھمکی دی گئی ہے کہ انہیں ایک پاکستانی ٹی وی چینل کے ساتھ انٹرویوکے دوران ہلاک کیا جائےگا۔ انٹیلی جنس بیورو کے مطابق اس پاکستانی میڈیا گروپ نے تقریباً بارہ دن پہلے انٹرویو کے لیے درخواست دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ای میل میں کہا گیا ہے کہ مودی کو افغانستان کے مشہور رہنما احمد شاہ مسعود کے طرز پر ہلاک کرنے کی دھمکی ملی ہے جنہیں رپورٹر کی شکل میں دو خود کش حملہ آورں نے بم دھماکے سے اڑا دیا تھا۔

مسلم مخالف سی ڈی، بی جے پی کی مصیبت
گزشہ برس اتر پردیش اسمبلی کے انتخابات کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے ایک سی ڈی جاری کی گئی تھی۔ اس سی ڈی میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پیدا کرنے والے بیانات اور مناظر شامل کیے گئے تھے ۔ شکایت کے بعد یہ متنازعہ سی ڈی فوراً واپس لے لی گئی تھی اورانتخابی کمیشن نے بھی بی جے پی کو صرف تنبیہ کر کے چھوڑ دیا تھا ۔

لیکن کئی مہینے گزرنے کے بعد اب یہ سی ڈی بی جے پی کے لیے مصبت بن سکتی ہے۔ اترپردیش کی وزیراعلی مایا وتی نے کہا ہے چونکہ اس سی ڈی میں ایک مخصوص برادری کو اس کے مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا اس لیے یہ بہت حساس معاملہ ہے اور اس کی تحقیقات سی بی آئی سے کرائی جائے گی ۔

پولیس اس معاملے میں بی جے پی کے قومی صدر راج ناتھ سنگھ ، سابق‍ وزیر لال جی ٹنڈن اور پارٹی کے دس دیگر رہنماؤں کے بارے میں تحقیقات کر رہی ہے۔ ادھر بی جے پی نے اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا ہے ۔

’ہائی ٹیک‘ آر ایس ایس
وقت کے ساتھ ساتھ ہندو نظریاتی تنظیم راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ یعنی آر ایس ایس بھی خود کو تبدیل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ آر ایس ایس نے اب انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مراکز بنگلور، حیدرآباد، پونے، نوئیڈا اور گڑگاؤں جیسے شہروں پر توجہ مرکوز کی ہے اور وہاں وہ آئي ٹی پروفیشنل کو تنظیم کے دائرے میں لارہی ہے۔

حال میں پونے میں’ آئی ٹی ملن‘ نام کا ایک پروگرام رکھا گیا جس میں تقریباً ایک ہزار نوجوان پیشہ وروں نے حصہ لیا۔ آر ایس ایس آئی ٹی سیکٹر میں نوجوانوں کی اس دلچسپی سے کافی خوش ہے۔ گزشتہ برسوں میں آر ایس ایس میں نوجوانوں کی رکنیت کافی کم ہوئی ہے۔

ترقی کے لیے دفتر میں رومانس
ہندوستان کی بڑی بڑی کمپنیوں کے 34 فیصد ایگزیکٹوز کا خیال ہے کہ دفتر میں کسی شادی شدہ ساتھی سے رومانی تعلقات رکھنا برا نہیں ہے۔ ٹیم لیز نامی تحقیقی ادارے کے ایک سروے کے مطابق دفاتر میں کام کرنے والی 54 فیصد خواتین کا خیال ہے کہ ملازمت میں ترقی اور آگے بڑھنے کے لیے اپنے باس سے رومانی تعلقات پیدا کرنا جائز ہے۔بیس فیصد ایگزیکٹوز کا خیال ہے کہ آفس میں رومانس ازدواجی زندگی کی مشکلات سے فرار حاصل کرنے کا ایک بہترین راستہ ہے۔

سرحد کے نزدیک زمینوں کے سودے کے نئے ضوابط
گزشتہ دنوں ذرائع ابلاغ میں یہ خبر شائع ہوئي کہ راجستھان میں ہند و پاک سرحد کے نزدیک ممنوعہ علاقوں میں ہزاروں ایکڑ زمین دوسری ریاستوں کے باشندوں نے خرید لی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس حساس علاقے میں زمین خریدنے والے بیشتر افراد کے رہائشی پتے بھی نہیں درج کرائے گئے ہیں۔ بکنے والی بعض زمین زیرو لائن پر ہيں جو فروخت بھی نہيں کی جا سکتیں۔

ان طلاعات کے بعد راجستھان کی حکومت نے بارمیڑ، بیکانیر، جیسلمیر اور شری گنگا نگر اضلاع میں چار ٹاسک فورس بنائی ہیں جو زمینوں کی خریدو فروخت کے معاملات کا جائزہ لے گي اور جن کے پتے صحیح نہیں ہوں گے ان زمینوں کا اندراج منسوخ کر دیا جائے گا۔