http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 30 January, 2008, 14:29 GMT 19:29 PST

نادیہ پرویز
بی بی سی اردو ڈاٹ کام

اقلیتوں کے لیے تعلیمی وظیفے

ہندوستان کی حکومت نے اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے غریب طلبہ کو وظائف فراہم کرنے ایک تجویز منظور کر دی ہے ۔

دارلحکومت دلی میں مرکزی کابینہ کی اقتصادی معاملات کے اجلاس میں اس تجویز کو منظور کیا گیا۔

حکومت کے اس نئے منصوبے کے بارے میں وزیر خزانہ پی چدمبرم نے صحافیوں کو بتایا کہ اس کے تحت سرکاری اور سرکاری مدد سے چلنے والے نجی سکولوں کے پہلی سے دسویں جماعت کے طلبہ کو وظیفے فراہم کیے جائيں گے۔

وزیر خزانہ پی چدمبرم نے بتایا کہ 25 لاکھ وظیفوں میں سے تیس فیصد وظیفے طالبات کے لیے رکھے جائيں گے اور اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے گیارہویں پنجسالہ منصوبے میں تقریباً اٹھارہ سو کروڑ روپے رکھے جائيں گے۔

حکومت کے اس نئے منصوبے کو حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے ووٹ بینک کی سیاست قرار دیا ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے نائب سیکرٹری مختار عباس نقوی کا کہنا تھا ’حکومت کبھی مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کی بات کرتی ہے اور کبھی فوج اور نیم فوجی دستوں میں ریزرویشن کی بات کرتی ہے۔ دراصل یہ سب اقلیتوں کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے، اب دیکھنا یہی ہے کہ نئی اسکیم پر کب عمل کیا جاتا ہے‘۔

ہندوستان میں اقلیتوں کی آبادی تقریباً 20 فیصد ہے جن میں پہلے نمبر پر مسلمان ہیں جو کل آبادی کا 13.4 فیصد ہیں جبکہ 2.3 فیصد عیسائی اور 1.9 فیصد سکھ برادری دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔

گزشتہ برس صرف مسلمانوں کے حالات کا جائرہ لینے کے بعد سچر کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ ملک ميں مسلمانوں کے اقتصادی حالات دلتوں سے بھی بدتر ہیں۔ ایسے میں حکومت کی جانب سے تعلیم کے فروغ کے لیے کیے گيے اس اعلان سے اقلیتوں میں خوشی کی لہر دوڑنا لازمی ہے لیکن اقلیتی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اصل خوشی اس وقت ہی حاصل ہو گی جب اس منصوبے کو سیاست سے دور رکھ کر اس پر باقاعدہ طور پر عمل کیا جائے گا۔