Sunday, 27 January, 2008, 10:34 GMT 15:34 PST
شکیل اختر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
اڈوانی کا خواب
بھاریتہ جنتا پارٹی کے رہنما دلی میں قومی مجلس عاملہ کے تین روزہ اجلاس میں مستقبل کی حکمت عملی وضع کر رہے ہيں۔ اب تک بی جے
پی پر سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کی حکمرانی رہی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب لال کرشن اڈوانی پارٹی کی ساری توجہ کا مرکز ہوں
گے۔
گزشتہ مہینے سینئر رہنماؤں کے ایک اجلاس میں لال کرشن اڈوانی کو واجپئی کی جگہ وزیراعظم کے عہدے کا امیدوار قرار دیا گيا تھا اور گزشتہ ہفتے پارٹی نے باضابطہ طور پر مسٹر اڈوانی کے نام کی توثیق کی تھی۔
اڈوانی مختلف ریاستی اسمبلیوں اور آئندہ سال ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے بارے میں اپنی حکمت عملی پر سینئر رہنماؤں سے صلاح مشورہ کریں گے۔ یہ پہلا موقع ہے جب اڈوانی واجپئی کے بغیر تمام اہم فیصلے کریں گے۔
اسرائیل پر تبصرہ، گاندھی کے پوتے مستعفی
گاندھی جی کے پوتے ارون گاندھی نے تشدد کے بارے میں اسرائیل پر ایک منفی تبصرہ کرنے کے بعد اپنے ادارے کے صدر کے عہدے سے استعفی
دے دیا ہے۔ وہ امریکہ میں واقع عدم تشدد کے ادارے ایم کے گاندھی انسٹی ٹیوٹ فار نان وائلنس کے سربراہ تھے۔
ارون گاندھی نے روزنامہ ’واشنگٹن پوسٹ‘ کے بلاگ میں حال ہی میں لکھا تھا کہ ’دنیا بھر کے تشدد میں اسرائیل اور یہودی سب سے آگے ہیں‘۔ انہوں نے ایک بحث میں لکھا تھا کہ اسرائیل نے تشدد کے کلچر کو ہوا دی ہے اور تشدد سے صرف انسانیت کا نقصان ہوتا ہے۔
ارون گاندھی کے اس تبصرے پر سینکڑوں خطوط شائع ہوئے جن میں ان کے خیالات پر شدید ناراضگی ظاہر کی گئی تھی۔ ارون گاندھی نے اپنے استعفے میں لکھا ہے کہ ’میرا مقصد ایک صحت مند بحث چھیڑنا تھا۔ بظاہر میں اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوا۔ میری زبان سے لوگوں کو تکلیف پہنچی ہے جو کہ عدم تشدد کے فلسفے کے خلاف ہے۔ میں ان سبھی سے معافی کا خواستگار ہوں۔‘ ادارے نے مسٹر گاندھی کا استعفی منظور کر لیا ہے۔
سپین میں ہندوستانی دہشت گرد؟
گزشتہ ہفتے سپین کے حکام نے دس افراد کو مبینہ دہشتگرد حملے کی سازش اور تیاری کے الزام میں جیل بھیج دیا ہے۔ اخبارات سے جو اطلاعات
ملی ہیں ان کے مطابق ابتدائی طور پرگرفتار کیے گئے افراد میں دو ہندوستانی مسلمان بھی ہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق ایک شخص ممبئی
اور ایک حیدرآباد کا رہنے والا ہے۔
دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس سلسلے میں سپین کی حکومت نے ہندوستان سے کوئی رابطہ نہيں کیا ہے اور نہ ہی کچھ جاننے کی کوشش کی ہے۔ وزارت خارجہ کا کہنا ہےکہ ان کے پاس اس سلسسلے میں کوئی اطلاع نہيں ہے۔
مسلمانوں کی ذاتیں
اسلام اور عیسائی مذہب میں اگرچہ ذات پات کے نظام کی سخت مخالفت کی کئی گئی ہے اور ہر شخص کو برابر مانا گیا ہے لیکن ہندوستان
میں ہندوؤں کی طرح عیسائي اور مسلمان بھی ذات پات میں یقین رکھتے ہيں اور پوری طرح عمل کرتے ہيں۔
مسلمانوں میں بھی اکثر ذات پات کی بنیاد پر ہی سماجی اور انسانی رشتوں کا تعین ہوتا ہے اور شادی بیاہ کے معاملے میں عموماً مسلمان ذات پات پر عمل کرتے ہيں اور اپنی ’برادری‘ ہی میں شادی کرتے ہیں۔
گزشتہ دنوں ایک مسلم خٹک نے مفاد عامہ کی ایک عذرداری میں سپریم کورٹ سے درخواست کی تھی کہ ان کی برادری کو مسلم دلت مانا جائے اور اسی کی بنیاد پر انہيں ریزرویشن دیا جائے۔ بہار اور اترپردیش میں مسلمانوں کی کئی ایسی ذاتیں ہیں جو اپنی سماجی پسماندگی اور تفریق کے سبب خود کو دلتوں کی فہرست میں شامل کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ مسلمانوں کی کئی درجن ذاتیں پسماندہ ذاتوں کی فہرست میں شامل ہیں۔