Tuesday, 22 January, 2008, 07:15 GMT 12:15 PST
دنیا بھر کی طرح ممبئی حصص بازار میں منگل کو بھی مندی کا رجحان جاری رہا ہے اور بمبئی سٹاک ایکسچینج کے سینسیکس انڈیکس میں 2029 پوائنٹس کی کمی کے بعد کاروبار کو ایک گھنٹے کے لیے معطل بھی کرنا پڑا ہے۔
ادھر بھارتی وزيرِ خزانہ پی چدمبرم نے سرمایہ کاروں سے اپیل کی ہے کہ وہ پر سکون رہیں اور اپنا سرمایہ بازار سے نہ نکالیں۔
منگل کو جب بازار کھلا تو پیر کے مقابلے چند منٹوں میں ہی سینسیکس میں دو ہزار انتیس پوائنٹس کی گراوٹ درج کی گئی اور ایک وقت ایسا آیا کہ بازار 15576 پوائنٹس تک گر گيا جس پر ٹریڈنگ روک دی گئی۔ تاہم جب ایک گھنٹے کے وقفے سے ٹریڈنگ دوبارہ شروع ہوئی تو سینسیکس سولہ ہزار کی حد عبور کر گیا۔
بمبئی سٹاک ایکسچینج کی تاريخ میں یہ چوتھا موقع تھا جب بازار میں ٹریڈنگ کو ایک گھنٹے کے لیے معطل کیا گيا ہو۔ پیر کو بھی زبردست گراوٹ کے بعد کاروبار ایک گھنٹے کے لیے معطل کرنا پڑا تھا۔
ادھر ’نفٹی‘ میں بھی زبردست گراوٹ دیکھی گئی اور وہاں 630 پوائنٹس کی کمی دیکھنے میں آئی۔
پیر اور منگل کو بازار حصص میں حالیہ تاریخ کی سب سے بڑی مندی سے سٹاک ایکسچینج میں زبردست ہلچل مچ گئی ہے اور بعض سرمایہ کاروں نے دلال سٹریٹ پر مظاہرے بھی کیے ہیں۔ واضح رہے کہ ممبئی کے حصص بازار نے کچھ دن قبل ہی اکیس ہزار پوائنٹس کا ہدف عبور کیا تھا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ میں اقتصادی حالت کے خراب ہونے کی وجہ سے بڑی تعداد میں غیر ملکی سرمایہ کاروں نے اپنا روپیہ بازار سے نکال لیا ہے اور اس کے علاوہ کئی حصص بھی فروخت ہوئے ہیں جس کی وجہ سے بازار اس حد تک گراہے۔