فیصل محمد علی
بی بی سی، بھوپال
مدھیہ پردیش میں ہندو نظریاتی تنظیم راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ یعنی آر ایس ایس کے ایک سابق کارکن کے قتل کے بعد مشتعل ہندوؤں نے ایک مسلم گھر پر حملہ کیا ہے جس میں ایک شخص ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔
یہ واقعہ اتوار کو دیواس ضلع کے سیوات کھیڑی گاؤں میں پیش آیا ہے۔زخمیوں میں ایک خاتون شامل ہے اور ایک زخمی کی حالت نازک ہے۔ واقعہ کے بعد علاقے میں فرقہ وارانہ تناؤ بڑھ گيا ہے۔
مسلم خاندان کے قتل کے اس واقعہ کے بعد ابھی تک کسی کی گرفتاری نہیں ہوئي ہے۔
حکام نے حالات کے پیش نظر علاقے میں اضافی پولیس فورس تعینات کردی ہے اور حکم امتنائی نافذ کر دیا گیا ہے۔
دیواس ضلع کے پولیس سپرٹینڈینٹ آئی پی کل شریشٹ کا کہنا ہے کہ سنیچر کی رات نامعلوم افراد نے سنیل جوشی نامی ایک سابق آر ایس ایس کارکن کا قتل کردیا تھا۔ جس کے احتجاج میں سخت گیر ہندوؤں نے اتوار کو ہڑتال کی اپیل کی تھی۔
غور طلب بات ہے کہ دو ہزار تین میں ریاست اسمبلی انتخابات کے دوران ایک قبائلی کانگریسی رہنما کے قتل کے معاملے میں سنیل جوشی
پولیس کو مطلوب تھے لیکن اس واقعہ کے بعد جوشی فرار تھے۔ تاہم واضح طور پر پولیس یہ بتانے میں قاصر ہے کہ جوشی کا قتل کس نے کیا
ہے اور آیا ان کا قتل نیما کے مقام پر ہونے والے قتل سے منسلک ہے؟