http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 28 December, 2007, 15:31 GMT 20:31 PST

ریحانہ بستی والا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، ممبئی

اب مشرف کرسی چھوڑ دیں: عمران

تحریک انصاف کے رہنما عمران خان نے بینظیر بھٹو کے قتل پر صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ’ملک میں جو حالات ہیں ان میں الیکشن ممکن نہیں، اس کے لیے پہلے عدلیہ بحال کی جائے اور سبھی جماعتوں کی مخلوط حکومت بنائی جائے جس کی نگرانی میں آزادانہ اور منصفانہ طور پر الیکشن ہوں‘۔

ممبئی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے ملک میں پھیلی بدنظمی پر تنقید کی اور کہا کہ مشرف کو فوراً کرسی چھوڑ دینی چاہیے کیونکہ گزشتہ چھ سال کے دور میں ملک میں دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے۔

’ آئے دن بموں سے حملے ہو رہے ہیں اور ایسے ملک میں لوگ سرمایہ کاری کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ایسے میں ان کے پاس کرسی پر بیٹھے رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے‘۔

عمران خان نے پرویز مشرف کو بینظیر کی موت کا ذمہ دار قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ بےنظیر ایک باہمت خاتون تھیں۔ انہیں اس بات کی آگہی تھی کہ ان پر مزید حملے ہونے والے ہیں اور انہوں نے متعدد مرتبہ اس شک کا اظہار بھی کیا تھا۔

خان کا کہنا تھا کہ مشرف جس طرح اپنی سکیورٹی کے لیے ستر گاڑیوں کا قافلہ لے کر چلتے ہیں، ایک ہیلی کاپڑ ہمیشہ ان کی نگرانی کرتا ہے، اسی طرح انہیں بےنظیر کو سکیورٹی دینی چاہیے تھی لیکن انہوں نے ان کی حفاظت نہیں کی۔

’بےنظیر امریکہ کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت واپس آئی تھیں اس کے باوجود وہ محفوظ نہیں رہیں تو پھر ملک میں کوئی محفوظ کیسے ہو سکتا ہے۔ کوئی بھی اپوزیشن جماعت اب ریلی کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی‘۔

’مشرف نے جسٹس افتخار چودھری کو برطرف کر دیا۔سپریم کورٹ کے سات ججوں کو نظر بند کر دیا گیا اور ساٹھ سے زیادہ ججوں کو برطرف کیا گیا اس وقت جو جج ہیں وہ مشرف کے اپنے ہیں ایسے میں الیکشن اگر ہوئے تو وہ جانبدارانہ ہوں گے اور اس کی کوئی اہمیت نہیں ہو گی‘۔

عمران خان نے امریکہ اور اس کی پالیسویں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی امریکی پالیسیاں ناکام ہو چکی ہیں۔ اس عرصہ میں انہوں نے دہشت گردی ختم کرنے کے بجائے دہشت گرد پیدا کیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ وقت ملک میں موجود طالبان اور بنیاد پرست تنظیموں کے ساتھ مل کر بات کرنے کا ہے تاکہ ملک کے حالات بہتر ہوں سکیں۔

’اس وقت ملک جمہوریت حاصل کرنے کے لیے ایک لڑائی لڑرہا ہے۔ یہ ایک عارضی دور ہے جس سے ملک گزر جائے گا اور بہت جلد جمہوریت بحال ہوگی‘۔

عمران خان نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ انڈیا ان حالات میں پاکستان میں جمہوریت کی بحالی میں ان کے ساتھ تعاون کرے گا۔