Saturday, 29 December, 2007, 08:35 GMT 13:35 PST
نادیہ پرویز
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
ہندوستان اور پاکستان کی اگر فرسٹ فیملی کی بات کریں یعنی ایسا خاندان جو نسل در نسل سیاسی سرگرمیوں میں شامل رہے تو اس زمرے میں ہندوستان میں نہرو گاندھی خاندان کا نام آتا ہے اور پاکستان میں بھٹو خاندان کا نام۔ دونوں خاندانوں نےاپنے اپنے ملک کے سیاسی سفر میں اہم کردار ادا کیا ہے اور دونوں ہی خاندان کے لوگوں کی سیاست نے جانیں لیں۔
پاکستان کی سابق وزراعظم بینظیر بھٹو کے قتل کی خبر ہندوستان پہنچی تو بیشتر کو 1984 کے اکتوبر کے مہینے کی وہ صبح یاد آ گئی جب ہندوستان کی اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کو خود ان کے ہی باڈی گارڈ نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا اور 1991 کے مئی مہینے کی وہ شام جب اندرا گاندھی کے بیٹے راجیو گاندھی ایک خود کش حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ بینظیر کی ہی طرح راجیو گاندھی بھی ایک اتنخابی ریلی سے خطاب کر رہے تھے۔
بینظیر بھٹو اور اندرا گاندھی بھلے ہی مختلف سیاسی دور میں اقتدار میں تھے لیکن ان کے قریب رہنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ دونوں
میں ہی ملک کے لیے ایک ویژن موجود تھا۔ دونوں رہنماؤں کے قریبی اور سیئنر صحافی کے کے کٹیال کے مطابق دونوں ہی کافی مضبوط شخصیت
والی خواتین تھیں اور دونوں کا کردار بھی کرشمائی رہا ہے، دونوں کے خاندانوں کا ملک کی سیاست میں اہم رول رہا ہے۔ اس لیے دونوں
کافی حد تک ایک دوسرے سے ملتے جلتے تھے۔
![]() |
|
| دونوں خاندان میں فرق صرف اتنا تھا کہ بھٹو خاندان اقتدار میں اتنا وقت گزار نہیں سکا۔ |
بینظیر کے ساتھ ایک خصوصی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کے کے کٹیال نے بتایا کہ ’میں ان کا انٹرویو کر رہا تھا تو اس وقت ان کی پارٹی کے ایک بزرگ رکن انٹرویو کے درمیان آگئے۔ اسی وقت محترمہ بھٹو نے ناراض ہو کر کہا کہ آپ کو پتہ نہیں ہے کہ جب لیڈر بات کر رہے ہوں تو بیچ میں دخل نہیں دیتے۔ یہ بات میں نے دلی میں ایک برطانوی صحافی کو بتائی تو ان کا صرف یہی کہنا تھا کہ- بالکل اندرا گاندھی کی طرح‘۔
دونوں خاندان میں فرق صرف اتنا تھا کہ بھٹو خاندان اقتدار میں اتنا وقت گزار نہیں سکا جتنی مدت تک نہرو گاندھی خاندان نے ہندوستان پر حکمرانی کی۔
اگر بات صرف اندرا اور بینظیر کی کریں تو دونوں ہی اپنے اپنے ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم بنیں، دونوں پر ہی بدعنوانی کے الزامات
بھی عائد کیے گئے۔ بعد میں راجیو گاندھی کا بھی بوفورس توپوں کی خریداری کے رشوت خوری کے معاملے میں زور شور سے نام لیا گيا۔
![]() |
|
| بینظیر کو گر چہ اپنے والد کے ساتھ سیکھنے کا زیادہ موقع نہیں ملا لیکن غائبانہ طور پر ان پر اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو کا اثر واضح طور پر نظر آتا تھا |
اندر ملہوترا کے خیال میں بینظیر بھٹو میں ایک سچی سیاسی رہنما کی جھلک اس وقت نظر آئی جب 1999 میں انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ جب وہ وزیر اعظم تھیں تو ان سے کچھ غلطیاں ہوئیں تھیں۔اس کے علاوہ اندر ملہوترا کہتے ہیں کہ اگر ان کی کمیوں کی بات کریں تو خود کو تا عمر کے لیے پی پی پی کا صدر مقرر کرنا شاید کچھ زیادہ ہو گیا تھا۔
’ لیکن اب تک تاريخ داں صرف یہی کہہ سکتے ہیں کہ ’حسرت تو ان غنچوں پر ہے جو بن کھلے مرجھا گئے‘۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نہرو گاندھی خاندان اب بھی سیاست میں سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کی شکل میں ہندوستان کی سیاست پر چھایا ہوا ہے لیکن پاکستان کے صورت حال میں خاندان کا جاں نشیں کون ہوگا یہ کہنا مشکل ہے کیوں کہ سیاست میں کچھ بھی ممکن ہے۔