Tuesday, 11 December, 2007, 14:36 GMT 19:36 PST
عمر فاروق
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، حیدرآباد دکن
حیدرآباد کی مکہ مسجد میں ہندوستانی ٹینس سٹار ثانیہ مرزا کے ایک اشتہار کی شوٹنگ پر تنازعہ پیدا ہو گیا ہے۔
ثانیہ مرزا کے چار مینار سے متّصل مکہ مسجد کے اندر بغیر اجازت شوٹنگ کرنے پر حیدرآباد میں مسلمانوں کا ایک طبقہ اور مسجد کی دیکھ بھال کرنےوالا اقلیتی ویلفئر ڈپمارمنٹ ناراض ہیں۔
ڈسٹرکٹ ویلفئر اہلکار شیخ کریم اللہ نے پرانے شہر میں واقع حسینی عالم پولیس اسٹیشن میں ثانیہ مرزا اور اشتہار بنانے والی ایجنسی کے خلاف رپورٹ درج کرائی ہے۔
ایجنسی کی ٹیم ثانیہ مرزا اور ان کی والدہ کے ہمراہ الصبح شوٹنگ کے لیے مسجد پہنچی اور انہوں نے مسجد کی انتظامیہ اور ديگر لوگوں کے احتجاج کے باوجود پولیس کی نگرانی میں چار گھنٹے تک مسجد میں شوٹنگ کی۔
اشتہار شوٹ کرانے والی کمپنی کا دعوی تھا کہ اعلی اہلکاروں سے اجازت لے لی گئی ہے۔
مسجد میں شوٹنگ کے دوران جب لوگوں کی بھیڑ جمع ہوگئی اور انکا اجتجاج تیز ہوگیا تو پولیس نے بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا۔
کریم اللہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے مسجد انتظامیہ کے خلاف رپورٹ درج کرائی ہے کیونکہ وہ بغیر اجازت کے ہونے والی شوٹنگ کو روکنے میں ناکام رہی۔
مکہ مسجد کے مینجر محمد عبدالمنان، سپرنٹنڈنٹ خواجہ نعیم الدین اور سکیورٹی گارڈز کا کہنا ہے انہوں نے شوٹنگ روکنے کی کوشش کی تھی لیکن ان کو دھکے دیکر الگ کردیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں اس بات سے کوئی شکایت نہیں ہے کہ ثانیہ شوٹنگ کے وقت جینس اور شرٹ پہنے ہوئی تھیں۔
چار مینار ڈیویژن کے اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس بی ریڈانا کا کہنا ہےکہ معاملے کی تفتیش کی جارہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ: ’ اشتہار بنانے والی ایجنسی کے پاس چار مینار کے اندر اور اسکے ارد گرد شوٹنگ کرنے کی اجازت تھی۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ مسجد میں ثانیہ کا شوٹنگ کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے یہ نہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا ثانیہ نے مسجد کے آنگن میں ہی شوٹنگ کی۔
اس پورے معاملے پر ثانیہ مرزا اور ان کے والدین سے رابطے کی کوششیں ناکام رہیں۔
یہ دوسرا واقعہ ہے جب مکہ مسجد کے اندر اشتہار کی شوٹنگ پر تنازعہ پیدا ہوا ہے۔ اس سے پہلے ایک نجی موبائل فون کمپنی کے مکہ مسجد کو اشتہار کا حصہ بنانے پر تنازعہ کھڑا ہوگیا تھا اور شدید احتجاج کے بعد کمپنی نے اشتہار واپس لے لیا تھا۔