Monday, 03 December, 2007, 23:13 GMT 04:13 PST
ہندوستان کی جنوبی ریاست آندھراپردیش کے دارالحکومت حیدرآباد میں واقع نیلوفر چلڈرن ہسپتال میں ڈاکٹروں کی ہڑتال کے دوران اب تک سات بچوں کی موت ہوگئی ہے۔
اسپتال میں گزشتہ رات بحران اس وقت شروع ہوا جب مجلس اتحاد المسلمین نامی ایک علاقائی سیاسی جماعت کے رکن اسمبلی افسر خان نے اپنے حامیوں کے ساتھ نیلوفر اسپتال کے ڈاکٹروں سے مبنیہ طور پر ایک بیمار بیچے کو دیکھنے میں تاخیر پر مبینہ طور پر مار پیٹ کی۔
ڈاکٹروں نے رکن اسمبلی اور ان کے حامیوں کی بدسلوکی کے خلاف احتجاج میں ہڑتال کر رکھی ہے۔ نیلوفر اسپتال کے ڈاکٹروں کی حمایت میں دوسرے اضلاع کے جونئیرر ڈاکٹرز بھی ہڑتال پر جا رہے ہيں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ افسر خان اور ان کے حامیوں کو ناقابل ضمانت دفعات کے تحت گرفتار کیا جائے۔
نیلوفر اسپتال کے سپرٹنڈنٹ نے سات بچوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا ’ان سبھی کی موت قدرتی وجہ سے ہوئي ہے کیونکہ ہمارے پاس صرف نہایت نازک مریض ہی دوسرے اسپتالوں سے بھیجے جاتے ہيں۔ جونئیر ڈاکٹروں کی ہڑتال کے سبب ہسپتال کے کام کاج میں رخنہ پیدا نہيں ہوا ہے اور ہسپتال معمول کے مطابق چل رہا ہے‘۔
حکومت نے نیلوفر اسپتال کے اس واقعہ کو سنگین معاملہ قرار دیتے ہوئے جونیئر ڈاکٹروں سے ہڑتال ختم کرنے کے لیے کہا ہے اور ہڑتالی ڈاکٹروں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ قصوروار کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
وزیراعلی وائی ایس آر ریڈی نے ڈاکٹروں کے ساتھ کی گئي مبنیہ مارپیٹ اور بدسلوکی کی مذمت کی اور کہا ہے کہ قصورواروں کے خلاف قانونی کاروائي ہوگی۔
ریاست کی وزیر صحت گال ارونا نے واقعہ کی تفتیش سی آئی ڈی سے کروانے کا اعلان کیا ہے لیکن انہوں نے جونئیر ڈاکٹروں کے سخت رویہ پر بھی اپنی ناراضگی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ہسپتال کے نزدیک ایک پولیس پوسٹ قائم کی جائے گی تاکہ ڈاکٹروں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔