Monday, 03 December, 2007, 09:10 GMT 14:10 PST
نادیہ پرویز
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، احمدآباد
گجرات کے اسمبلی انتخابات کے پس منظر میں ہر طرف یہ سوال پوچھا جارہا ہے کہ گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کیا ایک بار پھر برسر اقتدار ہوں گے؟
اس سوال کا جواب اگر احمدآباد کے متوسط طبقے کے ہندوؤں سے جاننے کی کوشش کریں تو انہيں اس میں کوئی شک نہيں ہے کہ نریندر مودی ایک بار پھر ریاست کی حکمرانی کرنے جا رہے ہیں۔
نریندر مودی نے گزشتہ پانچ برس میں عام ہندو شہریوں کے درمیان اپنی ایک شناخت بنا لی ہے جسے کے سامنے کوئی بھی کھڑا نہیں ہو سکتا ہے۔ وہ چاہے ترقی کی بات ہو یا پھر بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی سب ان سے خوش ہیں اور وہ انہيں کسی ’ دیوتا ‘سے کم نہیں سمجھتے ہیں۔
ایک ورزش گھر چلانے والے منیش پانڈے کا کہنا ہے ’ نریندر مودی نے ہم میں خود اعتمادی پیدا کی ہے اگر وہ پھر آئیں گے تو گجرات اور بھی آگے جائے گا۔
اگر یہ کہیں کہ گجرات میں نریندر مودی ہی بھارتیہ جنتا پارٹی بن گيے ہيں تو شاید غلط نہیں ہو گا۔ منیش بتاتے ہیں ’ پچھلے پانچ برسوں میں اگر مقامی اخبارات پر نظر ڈالیں تو شاید ایک بھی دن ایسا نہیں گزرا ہوگا جب مودی کی تصویر نظر نہ آئی ہو۔ جس کے سبب عام شہریوں کے ذہن میں ان کی شکل بس چکی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے اور سچائی تو یہ ہے کہ آج بی جے پی انہیں برانڈ امبیسڈر کی طرح استمعال کر رہی ہے‘۔
کوئی مقابلہ نہیں ![]() |
ادھر اگر بات صرف ہندو متوسط طبقے کی کریں تو ان کے ذہن میں وہ سب سے طاقت ور اور انہتائی پرکشش شخصیت ہیں۔ ڈاکٹر کمل پٹیل کا کہنا ہے’ وہ ڈیشنگ تو ہیں ہی اور لائن (شیر) کی طرح ہیں۔ اور وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں‘۔
ایک خانہ دار خاتون میگھنا اوپادھائے کہتی ہیں ’مودی کے خطاب میں جو طاقت ہے وہ کسی میں نہیں ہے۔ ان کا مقابلہ اور کوئی نہیں کر سکتا۔ ہاں اگر راجیو گاندھی ہوتے تو شاید انہیں مقابلہ دے سکتے تھے‘۔
مودی کی ’ماچو ‘ امیج اور مودی کے خطاب سے متاثرہ کئی خواتین کبھی مودی کو بالی ووڈ سٹار امیتھابھ بچن کی برابری میں کھڑا کر دیتی ہیں۔
اگر بات کریں گجرات کے ادب اور ثقافت کی دنیا کی تو اس میں نریندر مودی کم مقبول نہيں ہیں۔ مودی کے بارے میں کوئی غلط بات سننے کے لیے تیار نہيں ہے۔ شاید یہی وجہ رہی ہوگی جب میں نے ایک دستاویزی فلم کے ہدایت کار منیشن دوے سے پوچھا کہ کیا انہوں نے تہلکہ اور آج کی جانب سے کیا گیا سٹنگ آپریشن دیکھاجس میں دکھایا گیا کہ کس طرح دو ہزار دو کے فرقہ وارانہ فسادات میں مبینہ طور پر انتظامیہ ملوث تھی اور بیشتر نے نریندر مودی کو ذمے دار ٹھرایاہے۔ منیشن کا جواب تھا’ مجھے نہیں پتہ میں نے تو دیکھا ہی نہیں‘۔
مقبول رہنما |
وجہ چاہے جو بھی ہو یہ بات واضح ہے کہ گزشتہ چھ برسوں میں نریندر مودی نے ہندوؤں کے درمیان ایک خصوصی جگہ بنا لی ہے اور ان کے لیے وہ کسی دیوتا سے کم نہیں جس نے وہ کر دکھایا جو پہلے کوئی نہ کر سکا۔ر آئندہ انتخابات میں بھی ہندو متوسط طبقے پر مودی کا جادو چلتا صاف صاف نظر آ رہا ہے۔