Saturday, 01 December, 2007, 09:13 GMT 14:13 PST
ارشادالحق
پٹنہ
ہندوستان کی ریاست بہار میں گزشتہ ایک برس میں ایچ آئی وی سے متاثرہ سات سو بچوں کی پیدائش ہوئی ہے اور حکام کو اس پر گہری تشویش ہے۔
ماہرین کے مطابق ایڈز کے خلاف بیداری مہم ریاست میں زیادہ کارگر ثابت نہیں ہو رہی۔
بہار ایڈز کنٹرول سوسائٹی (بی اے سی) کے تازہ اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ ایک سال میں ایچ آئی وی سے متاثرہ نئےمریضوں کی تعداد میں تین سو فی صد کا اضافہ درج کیا گیا ہے۔ یہ اعداد و شمار یکم نومبر دوہزار سات تک کے ہیں۔
سن دوہزار چھ میں بہار ایڈز کنٹرول سوسائٹی اور اس سے جڑی دوسری تنظیموں کے توسط سے شناخت کیے گئے ایچ آئی وی سے متاثرہ لوگوں کی تعداد جہاں 4 ہزار تین سو تھی وہ یکم نومبر دوہزار سات کو 16 ہزار سے تجاو ز کر گئی ہے۔
بی اے سی نے جو اعداد و شمار جمع کیے ہیں اس کے مطابق سن دوہزار چھ اور سات کے درمیان تقریبا سات سو ایسے بچوں کی ولادت ہوئی ہے جنہیں ماں یا باپ سے ایچ آئی وی وائرس ملا ہے۔
بی اے سی کے پروجیکٹ ڈائریکٹر ایچ این جھا کہتے ہیں’ہمیں خدشہ ہے کہ بہار میں چالیس سے پچاس ہزار افراد ایسے ہوں گے جنہیں یہ معلوم نہیں کہ وہ ایچ آئی وی سے متاثر ہیں اور وہ لاپرواہی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔‘
ماہرین کا کہنا ہے کہ بہار میں ایڈز کے متعلق بیداری مہم کامیاب نہ ہونے کی سب سے اہم وجہ ناخواندگي ہے۔ بہار میں 48 فی صد سے زیادہ افراد ناخواندہ ہیں جن میں نوجوانوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔
ایسو سی ایشن آف لیبر اکانومی کے اعداد وشمار کے مطابق بہار سے ہر برس آٹھ لاکھ مزدور مہاراشٹر، گجرات اور دلی سمیت دیگر ریاستوں میں کام کی تلاش میں جاتے ہیں جہاں وہ مہینوں رہتے ہیں۔
ایچ این جھا کا کہنا ہے کہ ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد میں زیادہ تر لوگ وہی ہوتے ہیں جو بہار سے باہر رہ کر کام کرتے ہیں اوراس دوران بغیر احتیاط کے جنسی تعلقات قائم کرتے ہیں۔