Wednesday, 28 November, 2007, 16:14 GMT 21:14 PST
تنویر اے صدیقی
گجرات
گجرات کے اسمبلی انتخابات میں کاغذات نامزدگی داخل کرنے کا بدھ کو آخری دن تھا اور بعض نشستوں حکمراں اور حزب اختلاف کی پارٹیاں اپنے امیدواروں کے نام طے کرنے میں ناکام رہیں جس سے رسہ کشی کی شدت کا اندازہ ہوتا ہے۔
امیدواروں کے انتخاب کے متعلق دونوں ہی پارٹیوں میں سخت بے اطمینانی کا ماحول پایا جاتا ہے۔ حتی کہ گانگریس کے ریاستی دفتر پر مشتعل ہجوم نے پتھراؤ بھی کیا۔ اس واقعہ میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہيں ہے۔
وزيراعلٰی نریندر مودی سے مقابلہ کرنے کے لیے کانگریس نے مرکزی وزیر مملکت برائے پیٹرولیم دنشا پٹیل کو رضامند کر لیا ہے اور فریقین نے کاغذات نامزدگی پورے زور و شور سے داخل کرائے ہيں۔
پچھلی مرتبہ کے تلخ تجربہ سے سبق لے کر کانگریس نے اس بار نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کو آٹھ جگہوں پر اپنے امیدوار کھڑے کرنے کی اجازت دے دی ہے جبکہ بالکل آخری لمحوں میں رام ولاس پاسوان کی لوک جن شکتی پارٹی کو ایک امیدوار احمد آباد کے دریا پور اسمبلی حلقے سے کھڑے کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
ان کے علاوہ بھاریتہ جنتا پارٹی کے نو باغی ممبران کو بھی کانگریس نے اپنے امیدوار کے طور پر میدان میں اتاراہے ۔ان لوگوں نے چند دنوں پہلے ہی بی جے پی سے ناتا توڑ کر کانگریس میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔
بغاوت اور بے اطمینانی کے پس منظر میں دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے ذمہ داران تشویش میں مبتلا ہیں کہ فی الوقت یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ پارٹی امیدوار کو زيادہ نقصان کس سے پہنچے گا، مخالف پارٹی سے یا اندورنی خلفشار سے؟
ایک اور چيز اس انتخابی مہم کو دلچسپ بناتی ہے اور وہ ہے بھارتی جن شکتی پارٹی کی رہنما اوما بھارتی کی سیماب صفت شخصیت ہے۔ جس کا انہوں نے بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔ اپنی پارٹی کے نشان پر ساٹھ امیدوار کھڑے کرکے جن میں بی جے پی کے باغی امیدوار بھی شامل ہے انہوں نے اعلان کر دیا ہے کہ وہ لوگ آزاد امیدوار کی حیثیت سے چناؤ لڑ سکتے ہيں۔
اس فیصلے نے انہیں کافی مضحکہ خیز حالت سے دوچار کر دیا ہے۔
آئندہ ماہ کے پہلے ہفتے سے ملک بھر کے سرکردہ سیاسی رہنما انتخابی مہم کی غرض سے گجرات کے چپے چپے تک پھیل جائیں گے۔ یہ سلسلہ سولہ دسمبر تک چلتا رہے گا۔ عام رائے بی جے پی کے حق میں ہموار نظر آتی ہے لیکن رائے دہندگان بالکل عین وقت پر کیا فیصلہ کرتے ہيں اس پر کانگریس اور بی جے پی کے سیاسی مستقبل کا دارومدار رہے گا۔ مقابلہ ہے دو نعروں کے درمیان ’چک دے گجرات‘اور ’جیتے گا گجرات‘۔