Saturday, 24 November, 2007, 13:46 GMT 18:46 PST
رام دت ترپاٹھی
بی بی سی، لکھنو
جمعہ کو ہونے والے بم دھماکوں کے خلاف سنیچر کو بھارتیہ جنتا پارٹی اور وشو ہندو پریشد کی جانب سے ریاست اتر پردیش میں ہڑتال کے علان کا معمولی اثر نظر آیا ہے۔
ریاست میں بیشتر مقامات پرامن رہے جبکہ بعض جگہوں سے مظاہروں اور معمولی جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں۔ ریاست کے بڑے شہروں میں ہڑتال کا اثر زیادہ نظر آیا جبکہ چھوٹے شہروں ميں زندگی معمول پر تھی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ریاست اتر پردیش کے شہروں لکھنؤ، بنارس اور فیض آباد کی میں ہونے والے دھماکوں کی تفتیش جاری ہے۔ پولیس نے چشم دید گواہوں کی مدد سے لکھنؤ اور فیض آباد میں ایک ایسے آدمی کا خاکہ جاری کیا ہے جن پر دھماکوں میں شامل ہونے کا شک ہے۔
لکھنؤ میں پولیس آفیسر اے کے جین نے کہا کہ انہوں نے معلوم کیا ہے کہ دھماکوں میں استعمال ہونے والی سائیکلیں کہاں سے خریدی گئی تھیں اور ملزمان کا حلیہ کیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق پولیس نے بنارس، فیض آباد اور لکھنؤ میں کچھ لوگوں کو پوچھ گچھ کے لیے اپنی تحویل میں لیا ہے۔ پولیس اس بات کا پتہ لگانے کی بھی کوشش کر رہی ہے کہ دھماکوں سے کچھ ہی پہلے وہ ای میل کس نے بھیجا تھا جس میں اس طرح کی سنسنی خیز واردات کرنے کی بات کہی گئی تھی۔
![]() | |
| پولیس نے چشم دید گواہوں کی مدد سے لکھنؤ اور فیض آباد میں ایک شخص کا خاکہ جاری کیا ہے |
اطلاعات کے مطابق بھارتی جنتا پارٹی کے صدر راج ناتھ سنگھ سنیچر کو فیض آباد اور بنارس کے دورے پر جانے والے ہیں۔ بی جے پی اور وشو ہندو پریشد نے اتر پردیش میں ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ اس کے بعد بڑے پیمانے پر پولیس اور نیم فوجی دستے تعینات کیے گئے ہیں۔
ریاستی حکومت نے ریاست کے تمام بڑے شہروں میں ریڈ الرٹ کا اعلان کیا ہے اور متاثرہ شہروں میں سپیشل ٹاسک فورس بھیجنے کا فیصلہ کیا گيا ہے جو ان دھماکوں کی تفتیش کرے گی۔