Tuesday, 20 November, 2007, 14:55 GMT 19:55 PST
نادیہ پرویز
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
ہندوستان میں مسلمان خواتین کے مسائل دیگر خواتین سے کچھ الگ نہیں ہیں۔ ان مسائل کو حل کرنے کے لیے خواتین کو خود آگے آنا پڑے گا اور اپنے حقوق کی لڑائی لڑنی پڑے گی۔
یہ بات بھارتیہ مسلم مہیلا آندولن (ہندوستانی مسلمان خواتین کی تحریک) کی صدر ذکیہ جوہر نے تنظیم کے پہلے کنونشن کے موقع پر دلی میں کہی۔ ایک برس پرانی یہ تنظیم اپنی نوعیت کی پہلی ایسی تنظیم ہے جو مسلم خواتین میں اپنے حقوق کے حوالے سے بیداری پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں زندگی کے مختلف مسائل سے لڑنے کی طاقت فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
اس اجلاس میں ملک کی مختلف ریاستوں سے آئی خواتین سے خطاب کرنے والوں میں اسلامک سکالر اصغر علی انجینئر، اقتصادیات کے ماہر ابو صالح شریف، خانہ بدوشوں کے لیے تشکیل دیے گئے کمیشن کے چئرمین بال کرشن رینکے اور سرکردہ صحافی بھی شامل تھے۔
اصغر علی انجینئر کا کہنا تھا ’فی الوقت مسلم خواتین میں زبردست تبدیلی آرہی ہے، اور یہ تحریک اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مسلم عورتیں اب خاموش نہيں رہیں گی‘۔ انہوں نےمزید کہا کہ’ یہ بات بھی صحیح ہے کہ ابھی بھی مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ تعلیم سے محروم ہے اور ایک مخصوص طبقہ ہی بہتری کی طرف بڑھ رہا ہے لیکن آنے والے دنوں ميں یہی طبقہ پوری برادری کی بہتری حاصل کرنے میں مدد فراہم کرے گا‘۔
![]() | |
| اسلامک سکالر اصغر علی انجینئر کا کہنا تھا کہ مسلم عورتیں اب خاموش نہيں رہیں گی |
تین روزہ اجلاس کے دوران تنظیم کے ارکان نے نائب صدر حامد انصاری سے بھی ملاقات کی اور آخر میں ایک قرار داد منظوری کی گئی۔ اس قرارداد میں مسلمانوں کے حالات سے متعلق دی گئی سچر کمیٹی کی سفارشات پر جلد سے جلد عمل درآمد کرنے، 1992میں ممبئی میں ہونے والے فسادات سے متعلق شریکرشنا کی رپورٹ پر عمل درآمد کے علاوہ گجرات اور ممبئی فسادات کے متاثرین کے لیے جلد سے جلد معاوضہ فراہم کرنے کی سفارشات کی گئی ہیں۔