Tuesday, 20 November, 2007, 07:41 GMT 12:41 PST
بھارت کی مرکزی کابینہ کی جانب سے سفارش کے بعد جنوبی ریاست کرناٹک میں ایک بار پھر صدر راج نافذ کر دیا گیا ہے۔
صدر راج کے نفاذ کے بعد ریاست میں اسمبلی انتخابات کا راستہ ہموار ہوگیا ہے۔
صدر راج کے نفاذ کے حوالے سے منگل کی صبح وزیراعظم منموہن سنگھ کی صدرات میں کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں کرناٹک کےگورنر رامیشور ٹھاکر کی جانب سے ریاست میں صدر راج کے نفاذ کی سفارش کو قبول کر لیا گيا۔
یہ گزشتہ ایک مہینے کے دوران دوسرا موقع ہے کہ ریاست کرناٹک میں صدر راج کے نفاذ کی سفارش کی گئی ہے۔ ادھر کرناٹک اسمبلی کو معطل کر دیا گيا ہے۔ تاہم پارلیمنٹ کا اجلاس جاری ہونے کی وجہ سے حکومت صدر راج کے نفاذ کے لیے پارلیمنٹ کی منظوری حاصل کرے گی اور اس کے بعد اسمبلی تحلیل کرے گي۔
یاد رہے کہ پیر کو بی جے پی سے تعلق رکھنے والے کرناٹک کے نومنتخب وزیراعلٰی بی ایس یدورپا اپنی حلیف جماعت جنتادل سیکولر کی طرف سے حمایت واپس لیے جانے کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے۔
بی یدورپا 12 نومبر کو وزیراعلی بنے تھے اور پیر کو انہیں اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنا تھا۔ تاہم اسمبلی کی کارروائی سے قبل جنتادل نے دونوں جماعتوں کے درمیان اقتدار میں حصے داری کے معاہدے کے تحت بعض نئے مطالبات پیش کیے۔ اطلاعات کے مطابق ان مطالبات میں بعض اضافی اہم وزارتیں مانگی گئیں جو بی جے پی کو منظور نہیں تھیں اور اس وجہ سے ریاست ایک بار پھر سیاسی بحران کا شکار ہوگئی۔
کرناٹک میں 2005 میں اسبملی انتخابات میں کسی جماعت کو واضح اکثریت نہیں ملی تھی اور بی جے پی اور جنتادل کے درمیان اقتدار میں شراکت کے معاہدے کے تحت دونوں جماعتوں کو بیس بیس مہینے کے بعد اقتدار ایک دوسرے کو منتقل کرنا تھا۔
تاہم جنتادل نے بیس مہینے پورے کرنے کے بعد بی جے پی کو اقتدار سونپنے کے بجائے ریاست میں سیاسی بحران پیدا کر دیا اور وہاں گزشتہ مہنیے صدر راج نافذ کرنا پڑا تھا۔
جنتا دل سیکولر اور بی جے پی میں ایک بار پھر سمجھوتہ ہونے کے بعد صدر راج ہٹا لیا گیا تھا اور بی جے پی کے یدورپا وزیراعلی بنے تھے لیکن اعتماد کے ووٹ سے قبل ایک بار جنتا دل نے بی جے پی کو دھوکہ دے دیا۔