Monday, 19 November, 2007, 12:02 GMT 17:02 PST
ہندوستان کی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں نندی گرام کے واقعات پر زبردست ہنگامہ آرائی کے سبب کوئی کاروائي نہ ہو سکی۔
لو ک سبھا یعنی ایوان زیریں کااجلاس شروع ہوتے ہی حزب اختلاف کی جماعت بھاریتہ جنتا پارٹی نے نندی گرام پر تحریکِ التو کے تحت بحث کا مطالبہ کیا۔ بی جے پی کے رہنما وجے کمار ملہوترا کا کہنا تھا کہ نندی گرام کا واقعہ اب محض مغربی بنگال کا معاملہ نہیں ہے یہ معاملہ سنگین نوعیت اختیار کر گیا ہے اور اس پر ایوان پر مکمل بحث ہونی چاہیے۔
حزب اختلاف کا مطالبہ تھا کہ وہ وقفہِ سوالات معطل کر کے اس واقعہ پر فوراً بحث شروع کی جائے۔ سپیکر کا کہنا تھا کہ وہ بحث کے خلاف نہیں ہیں لیکن بحث وقفہِ سوالات کے بعد ہونی چاہیے۔
حزب اختلاف فوری بحث کے اپنے مطالبے پر مصر رہا اور بالآخر ایوان کی کاروائی کل تک کے لیے ملتوی کرنی پڑی۔ یہی صورت حال راجیہ سبھا یعنی ایوان بالا میں بھی رہی۔
تمام کاروائی کے دوران صرف اسی وقت کچھ دیر کے لیے خاموشی رہی جب ایوان نے بنگلہ دیش میں سمندری طوفان میں ہلاک اور تباہی پر دکھ کا اظہار کیا اور حکومت کی طرف سے مدد کا اعلان کیا گیا ۔
مغربی بنگال کے نندی گرام علاقے میں زرعی زمینوں پر بڑا صنعتی خطہ تعمیر کرنے کے حکومت کے فیصلے کے خلاف بڑی تعداد میں مقامی آبادی احتجاج کررہی ہے۔ صنعتی خطے کی تعمیر کے حامیوں سے تصادم میں اب تک کم از کم 23 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
خطے میں زبردست تشدد اور ہلاکتوں اور مظالم پر قابو پانے کے لیے مغربی بنگال کی کمیونسٹ حکومت کی زبردست نکتہ چینی کی جارہی ہے۔ مرکز میں حکمراں کانگریس نے بھی نندي گرام کے معاملے پر ریاستی حکومت پر نکتہ چینی کی ہے۔