Monday, 19 November, 2007, 11:57 GMT 16:57 PST
ہندوستان کی جنوبی ریاست کرناٹک میں جنتا دل سیکولر یعنی جے ڈی ایس کی طرف سے حمایت نہ دینے کے فیصلے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی کی نئی حکومت خطرے میں پڑ گئی ہے۔
پیر کے روز کرناٹک کے وزیراعلٰی بی ایس یدورپا کو اپنی اکثریت ثابت کرنے کے لیے اسبملی میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنا تھا۔
ریاست کی سیاست نے اس وقت نیا رخ اختیار کیا جب جے ڈی ایس نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو حمایت دینے کے بدلے بعض ایسی شرائط رکھیں جنہیں بھارتیہ جنتا پارٹی نے قبول کرنے سے انکار کردیا۔
اطلاعات کے مطابق جے ڈی ایس نے بھارتیہ جنتا پارٹی سے کانکنی اور بعض دیگر اہم وزارتوں کا مطالبہ کیا تھا۔
جے ڈی ایس کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم ایچ ڈی ڈیوگوڈا نے کہا ہے کہ انکی پارٹی کے سبھی ارکان اسبملی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اسبملی میں بی جے پی کی یدورپا حکومت کے خلاف ووٹ ڈالیں۔
ادھر دلی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ انکی پارٹی اگر اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں ناکام بھی ہوئی تو بھی وہ ہار نہیں مانیں گے اور وہ ریاست میں انتخابات کے لیے تیار ہیں۔
دونوں پارٹیوں کے درمیان اختلافات دور کرنے کے لیے اتوار کے روز جے ڈی ایس اور وزیراعلٰی بی ایس یدورپا کے درمیان ایک میٹنگ بھی ہوئی لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا۔
انتخاب کے لیے تیار |
گزشتہ ماہ جے ڈی ایس حکومت کے بیس مہینے پورے ہونے کے بعد جنتا دل سیکولر اور بی جے پی کی مخلوط میں اقتدار کی منتقلی کے سوال پر تنازعہ کھڑا ہوگيا تھا جس کی وجہ سے اس وقت کے وزیراعلٰی ایچ ڈی کمارا سوامی کو آٹھ اکتوبر کو مستعفی ہونا پڑا تھا اور ریاست میں صدر راج نافذ ہوا تھا۔