Monday, 19 November, 2007, 13:39 GMT 18:39 PST
کرناٹک کے وزیر اعلی بی ایس یدورپا نے اپنی حلیف جماعت جنتا دل سیکولر کی طرف سے حمایت واپس لیے جانے کے بعد اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے۔
مسٹر یدورپا 12 نومبر کو وزیر اعلی بنے تھے اور پیر کے روز انھیں اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنا تھا۔
اسمبلی کی کارروائی سے قبل جنتا دل نے دونوں جماعتوں کے درمیان اقتدار میں حصے داری کے معاہدے کے تحت بعض نئے مطالبات رکھ دیے۔ اطلاعات کے مطابق اس نے بعض اضافی اہم وزارتیں مانگیں جو بی جے پی کو منظور نہیں تھیں۔ وزیر اعلی یدورپا نے حمایت واپس لیے جانے کے اعلان کے بعد اسمبلی میں ایک مختصر سا بیان دیا اور اعتماد کا ووٹ حاصل کیے بغیر وہ اپنا استعفی دینے گورنر کے پاس چلے گئے۔
مستعفی ہونے کے بعد مسٹر یدورپا نے کہا ’مجھے یقین ہے کہ کرناٹک کے عوام ہمارے فیصلے کا خیر مقدم کریں گے‘
کرناٹک میں 2005 میں اسبملی انتخابات میں کسی جماعت کو واضح اکثریت نہیں ملی تھی۔ بی جے پی اور جنتا دل کے درمیان اقتدار میں ساجھے داری کے معاہدے کے تحت دونوں جماعتوں کو بیس بیس مہینے کے بعد اقتدار ایک دوسرے کو منتقل کرنا تھا۔ لیکن جنتا دل نے بیس مہینے پورے کرنے کے بعد بی جے پی کو اقتدار سونپنے کے بجائے ریاست میں سیاسی بحران پیدا کر دیا اور وہاں گزشتہ مہنیے صدر راج نافذ کرنا پڑا۔
لیکن جنتا دل سیکولر اور بی جے پی میں ایک بار پھر سمجھوتہ ہونے کے بعد صدر راج ہٹا لیا گیا اور بی جے پی کے یدورپا وزیر اعلی بنے۔ لیکن اعتماد کے ووٹ سے قبل ایک بار جنتا دل نے بی جے پی کو دھوکہ دے دیا۔
ریاستی اسمبلی میں کانگریس دوسری سب سے بڑی جماعت ہے۔ چونکہ کانگریس بھی جے ڈی ایس سے ایک بار دھوکہ کھا چکی ہے اس لیے ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ وہ جنتا دل کے ساتھ حکومت سازی کی کوشش کرے گی یا نہیں۔ اگر وہ الگ رہتی ہے تو ریاست میں انتخابات کے لیے راستے ہموار ہو سکتے ہیں۔