Friday, 16 November, 2007, 09:42 GMT 14:42 PST
شہاب فضل
لکھنؤ
ریاست اترپردیش پولیس کی سپیشل ٹاسک فورس نے مبینہ طور پر انتہا پسند تنظیم جیش محمد کے تین شدت پسندوں کوگرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے۔
پولیس کے مطابق تینوں پاکستانی شہری ہیں اور ان کا منصوبہ بعض اہم سیاست دانوں کو اغوا کرنا تھا۔
ڈائریکٹر جنرل آف پولیس وکرم سنگھ نے بتایا کہ یہ گرفتاریاں جمعہ کی صبح لکھنؤ کے نواحی علاقے میں ایک جھڑپ کے بعد ہوئی ہیں لیکن اس تصادم میں کوئی پولیس اہلکار زخمی نہیں ہوا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے گئے افراد میں ستائيس سالہ محمد عابد عرف ایوب کا تعلق لاہور سے ہے جبکہ اکیس سالہ یوسف فیصل کا ملتان سے اور چھبیس سالہ مرزا رشید کا تعلق گجرانوالہ سے ہے۔ پولیس کے مطابق تینوں ایک جعلی شناختی کارڈ لے کر سفر کر رہے تھے۔
ان افراد کو میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا اور ان سے برآمد اسلحے کی نمائش کی گئی جس میں اے کے 47 رائفل، چینی ساخت کے پستول، ہینڈ گرینڈ اور کثیر تعداد میں کارتوس شامل ہیں۔
سپیشل ٹاسک فورس کے ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ کچھ دنوں سے پولیس خفیہ اطلاع کی بنیاد پر سخت چوکسی دکھا رہی تھی۔ ایسی اطلاعات بھی آ رہی ہیں کہ شدت پسند کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کے بیٹے راہل گاندھی یا بیٹی پرینکا گاندھی کو اغوا کرنے کا منصوبہ رکھتے تھے۔
ٹاسک فورس کے ایڈشنل ڈائریکٹر جنرل شیلجا کانت نے بتایا کہ یہ شدت پسند تخریب کاری کی سرگرمیاں انجام دینا چاہتے تھے۔ مسٹر کانت نے کہا کہ ان افراد سے پتہ چلا ہے کہ انتہا پسند تنظیمیں جیلوں میں قید بعض شدت پسندوں کی رہائی کی بھی کوششیں کر رہی ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے ان تینوں کو افغانستان اور پاکستان کے کیمپوں میں تربیت دی گئی ہے۔