Thursday, 08 November, 2007, 10:27 GMT 15:27 PST
ہندوستان کی ریاست مغربی بنگال کے نندی گرام میں کثیرملکی کمپنیوں کو زمین الاٹ کیے جانے کی مخالف بھومی اوچھید پرتیرودھ سمیتی اور حکمراں بائیں محاذ کے کارکنوں کے درمیان تازہ تصادم میں چار افراد ہلاک ہوگئے ہيں۔
نندی گرا م کے علاقے میں آگزنی، بڑے پیمانے پر تخریب کاری اور لوٹ پاٹ کے واقعات کے بعد حالات مزید کشیدہ ہوگئے ہيں۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران تشدد کے واقعات میں تقریبا دس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
گزشتہ تین روز سے جاری تشدد کے دوران تقریبا دو سے ڈھائی ہزار متاثرہ افراد نے اپنے گھروں کو چھوڑ کر نندی گرا م کے اسکولوں اور پولیس تھانوں میں پناہ لے رکھی ہے۔
نندی گرام سے وقتا فوقتا گولی باری اور بم پھیکنے کی خبریں موصول ہورہی ہیں، دونون فریقین کی لڑائی میں پولیس بے بس نظر آرہی ہے۔
پولیس کا کہنا ہےکہ رواں برس مارچ میں تشدد بھڑک اٹھنے کے بعد جب پولیس نے فائرنگ کی تھی تو زبردست نکتہ چینی کی گئی تھی اس لیے وہ اس بار کوئی کاروائی کرنے سے احتراز کر رہی ہے۔
بدھ کو حزب اختلاف کی جماعتوں کے کارکنوں نے حکمراں اتحاد کے خلاف احتجاجا کولکاتا سمیت کئی مقامات پر سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کی تھیں۔
اس سال کے اوائل میں ریاست کے وزیراعلیٰ بدھا دیب بھٹاچاریہ کی حکومت نے نندی گرام میں انڈونیشیا کی ایک کمپنی ’سلیم گروپ‘ کو ایک کیمیکل پلانٹ لگانے کی منظوری دی تھی۔
اس کے خلاف وہاں کے عوام بھومی اچھید پرتیرودھ سیمتی کے تحت متحد ہوگئے تھے اور وہاں خونریز جھڑپوں اور مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا تھا جن میں چودہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
اس کے بعد نندی گرام، جسے حکمراں سی پی ایم کا گڑھ مانا جاتا ہے، سے سی پی ایم کے کارکنوں کو بے دخل کر دیا گیا اور تب سے وہ پناہ گزین کیمپوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔
حزب اختلاف کی رہنما ممتا بینرجی کا کہنا ہے کہ ’بدھا حکومت نندی گرام میں دہشت گردی اور خوف کا ماحول پھیلانے میں ملوث ہے اس لیے وہاں آنے والے فوجی دستوں کی کمانڈ مرکز کے ہاتھ میں ہونا چاہیے اور ریاستی حکومت کا اس پر کوئی کنٹرول نہیں ہونا چاہیے۔‘
بدھادیو سرکار جو راشن کی دکانوں ميں بدعنوانی کے معاملے اور رضوان معاملے پر پہلے ہی عوامی مخالفت میں گھری ہوئی ہے اب نندی گرام کے حالات خراب ہونے سے صورتحال مزید پیچیدہ ہوگئی ہے۔